data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد و جامشورو کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی نے کہا ہے اسپتال میں آنے والے مریضوں اور اُن کے تیماداروں کی شکایات کے فوری ازالہ کیلئے اے ایم ایس کی زیر نگرانی سینئر ڈاکٹر ز پر مشتمل اسپتال کے مرکزی دروازے پر ’’شکایت اور سہولت مرکز‘‘ قائم کر دیا گیا ہے ،جہاں مریض اور اُن کے تیمارداروں کی علاج و معالجہ کے حوالے سے کسی بھی طرح کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے گاجبکہ اسپتال میں مریضوں کے علاج و معالجہ اور خوراک کو عالمی ادارہ صحت(WHO) کے اصولوں کے مطابق بہم پہنچانے میں ہم اسی وقت کامیاب ہوسکیں گے جب پروفیسرز، ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیل اسٹاف میرے ساتھ مل کر شانہ بشانہ شب و روز محنت و لگن سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے نمائندہ وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی نے مزید کہا کہ ہماری ہر ممکن یہ کوشش ہونا چاہیے کہ مریض جلد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں اور جہاں بھی ایم آر آئی، سٹی سکن اور دیگر مشنری میں کسی بھی طرح کی خرابی ہو تو وہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فوری طور پر اس کی مرمت کرا کر قابل استعمال بنائیں۔انہوں نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ شعبہ حادثات و ایمرجنسی (لال بتی) کو ہم نے اپ گریڈ کر کے وہاں سٹی اسکن، ای سی جی، پورٹیبل ایکسرے، اے بی جی، پورٹیبل الٹراسائونڈ ،مائنر OT کے ساتھ فارمیسی اسٹور بھی قائم کر دیا ہے جہاں سینئر ڈاکٹرز ،نرسز ڈسپنسرز اپنی اپنی شفٹوں میں موجودرہ کر اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کوئی بھی نازک حالت میں آنے والے مریض جنہیں فوری طور پر آئی سی یو کی ضرورت ہوتی ہے انہیں ایمرجنسی میں ہی قائم آئی سی یو میں فوری طور پر شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی نے موقع پر موجود ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کے علاج و معالجہ میں اور خوراک کی فراہمی میں کسی بھی طرح کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی مریض کی شکایت مجھ تک پہنچنے سے قبل ہی قائم کئے گئے شکایت اور سہولت مرکز میں مریض کی شکایت کا فوری ازالہ کیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کسی بھی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق