پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے پیچھے دہشتگرد نیٹ ورک کی نشاندہی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پشاور: گزشتہ ماہ ایف سی ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے کے پیچھے ملوث دہشتگرد نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق حملہ آور کالعدم تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور پشاور میں قیام کے دوران شہر کے مختلف راستوں اور اہم مقامات کی نگرانی کر کے پلان تیار کیا۔
حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کو خودکش جیکٹس کی فراہمی اور رہائش کے انتظامات بھی فراہم کیے گئے، جبکہ ان کی نقل و حرکت میں مدد کرنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے بھی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک 150 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور کئی ملزمان کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے۔
یاد رہے کہ اس حملے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور 5 زخمی ہوئے تھے، جبکہ حملے میں شامل 3 خودکش بمبار بھی مارے گئے تھے۔ تفتیشی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ نیٹ ورک مستقبل میں بھی بڑے اہداف پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اس لیے سکیورٹی ادارے شہر کے حساس مقامات کی نگرانی بڑھا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔