ٹیکسٹائل شعبے کو 5 دن میں 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لاہور:ملک میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے دوران برآمدی آرڈر بروقت نہ پہنچنے پر ٹیکسٹائل شعبے کو 5 دن میں 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ گیا۔
گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کی طرف سے یہ ہڑتال پنجاب میں نئے ٹریفک آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانوں اور مقدمات کے اندراج جیسے سخت اقدامات کیخلاف کی گئی تھی۔
ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے باعث برآمدی آرڈرز بروقت نہ پہنچنے کی وجہ سے اس شعبے کو پانچ دن میں 20کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔
صنعتی خام مال کی عدم دستیابی نے دیگر شعبوں کی پیداوار اور برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل کو بھی متاثر کیا۔
میڈیارپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے بڑی مال بردار گاڑیوں کو پکڑ کر کئی کئی روز تک سڑکوں پر کھڑا کر دیا جاتا ہے جس سے نا صرف ٹرانسپورٹرز کا نقصان ہوتا ہے بلکہ رسد کے نظام میں بھی شدید خلل پیدا ہوتا ہے۔
یہ اقدام براہِ راست ملکی معیشت کو متاثر کرتا ہے، قومی معیشت کی موجودہ نازک صورتحال میں چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑے نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔
پنجاب حکومت سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کا نقصان
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔