data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت) گورنمنٹ ماروی گرلز ڈگری کالج بدین میں کلچرل ڈے کے موقع پر رنگا رنگ ثقافتی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی – طالبات کی جانب سے ٹیبلو اور قومی نغمے – تقریری مقابلے -ثقافتی تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کالج کی پرنسپل سیما طفیل نے کہا کہ ہماری تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے اور اسے برقرار رکھنا اور آگے بڑھانا نئی نسل کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے طلباء کو اپنے ثقافتی ورثے اور قومی شناخت کی اہمیت کے بارے میں قیمتی معلومات دیں۔ پہلے روز کالج میں طلباء  کے درمیان کوکنگ مقابلے اور آرٹ ڈرائنگ کے مقابلے ہوئے۔ دوسرے روز ریسلنگ، کرکٹ سمیت کھیلوں کے مقابلے ہوئے۔ فٹ بال والی بال؛ .

اس کے بعد طلباء  کے درمیان مختلف علمی اور ثقافتی مقابلے ہوئے جن میں سندھی، اردو اور انگریزی تقاریر، گلوکاری اور کوئز مقابلے شامل تھے۔ سندھی تقریر میں آمنہ جٹ نے پہلی اور نائلہ شاہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اردو تقریر میں صدف نے پہلی اور سائرہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انگریزی تقریر میں مہک نے پہلی اور بینظیر بھٹو نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ سندھی گانا گانے کے مقابلے میں امبر نے پہلی اور حنا نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ کوئز مقابلے میں کلاس انٹر کی ٹیم عنبر اور صفیہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان مقابلوں میں ججز کے فرائض پروفیسر رضیہ جمیل، پروفیسر اظہر چانڈیو، پروفیسر ثناء کامران اور پروفیسر مظہر حسین نے بڑی ذمہ داری کے ساتھ انجام دیئے۔ پروفیسر یامینہ نظامانی، پروفیسر رضیہ جمیل، پروفیسر امبر خاصخیلی، پروفیسر نگہت آرا جونیجو اور پروفیسر فائزہ میر نے طلبہ کو مقابلے کے لیے تیار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ثقافتی پروگرام کے دوران شاہ سائیں کی سورمے کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا جس میں کنیز فاطمہ، مہرانسہ، سائرہ، مریم آرائیں، مریم، سیدہ علیزہ، شرمین، ہیر، صبا حیدر اور عظمیٰ نے بہترین ثقافتی ٹو ڈو لسٹ پیش کیں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سورمکو خراج تحسین پیش کرنے کے دوران پروفیسر یامینہ نظامانی پس منظر کی مقرر تھیں جبکہ پروفیسر یامینہ نظامانی، پروفیسر ذکیہ بلوچ اور کرائی نے طالبات کی تیاری کی۔ ایوارڈ تقریب کے دوران پروفیسر ثناء کامران، پروفیسر صوفیہ راہوجو اور پروفیسر مقدس مریم نے بھی اپنی موجودگی سے تقریب کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ پروگرام میں شامل اساتذہ اور فیکلٹی ممبران میں پروفیسر بشریٰ تنویر، پروفیسر انیلہ احمد، پروفیسر فائزہ میر، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر صبغت اللہ میمن، پروفیسر عمر سومرو، پروفیسر اظہر چانڈیو، پروفیسر مسمار حسین، پروفیسر نگہت، پروفیسر جونی، پروفیسر نگہت بلوچ، پروفیسر نگہت بلوچ اور دیگر شامل تھے۔ یامینہ نظامانی، پروفیسر امبر خاصخیلی، اور پروفیسر بختاور سومرو، جن سب نے اپنے بھرپور تعاون سے پروگرام کو کامیاب بنایا۔ نان ٹیچنگ سٹاف میں سے سینئر کلرک امداد میر، لیب اسسٹنٹ انیلہ یوسف، اور لیب اسسٹنٹ محمد سومرو نے بھی انتظامی امور میں بھرپور تعاون کیا۔

نمائندہ جسارت

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نے دوسری پوزیشن حاصل کی یامینہ نظامانی اور پروفیسر نے پہلی اور کے دوران

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی