Daily Sub News:
2026-06-03@02:52:39 GMT

جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان

جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 December, 2025 سب نیوز

برلن (آئی پی ایس) جرمنی کی حکومت نے افغان پناہ گزین پروگرام فوری ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی نے فیصلہ افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے اور سنگین سکیورٹی خطرات کے باعث کیا۔

جرمن میڈیا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جرمنی نے 640 افغان پناہ گزینوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق جرمنی آنے کے منتظر افغان مہاجرین کے داخلے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں جرمنی نے 28 جبکہ 2025 میں 81 مجرمانہ کارروائیوں پر افغان باشندوں کو ملک بدر کیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسڈنی بیچ حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے، پولیس نے مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہ کرنے کا اعلان کردیا سڈنی بیچ حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے، پولیس نے مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہ کرنے کا اعلان.

.. خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی دومختلف کارروائیوں میں 13خوراج جہنم واصل سازش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا، ابھی بہت سے فیصلے آنے ہیں، رانا مشہود پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں فضا تک مار کرنے والے میزائل کے فائر پاور کا مظاہرہ فیض حمید کے ساتھ جو بھی شریک جرم رہا قانون کے کٹہرے میں آئے گا، رانا تنویر اسلام آباد، این سی سی آئی اے کی بڑی کارروائی، شہریوں سے رقم ہتھیانے ،مالی فراڈ میں ملوث 8رکنی گروہ گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کرنے کا اعلان افغان پناہ

پڑھیں:

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔

ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو

امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان