سڈنی واقعہ پر صدر مملکت و وزیراعظم کی مذمت اور متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے فائرنگ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ہلاک و زخمی ہونے والے شہریوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے واقعے میں متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید متاثر رہا ہے اور ایسے حملوں سے معاشروں کو پہنچنے والے درد و صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا اور دہشت گردی کی ہر صورت کے خلاف پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر قسم کے دہشت گردانہ واقعے کی مذمت کرتا ہے اور اس مشکل وقت میں آسٹریلوی حکومت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ہلاک و زخمی ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور آسٹریلوی حکومت و عوام کے لیے دلی تعزیت پیش کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف ناقابل معافی جرم ہے اور پاکستان کو بھی اس خطرے کا سامنا ہے، اسی لیے ہم آسٹریلوی عوام کے دکھ اور صدمے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر 2 مسلح افراد نے شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہمدردی کا اظہار کے ساتھ ہے اور
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔