اپنا خون پینے والا نوجوان اسپتال میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
روس میں ایک 17 سالہ نوجوان اپنا ہی خون پی کر اسپتال پہنچ گیا۔ نوجوان اس مشکل میں انٹرنیٹ پر ایک کلپ دیکھ کر ہیموگلوبین کی مقدار بڑھانے کی کوشش میں پھنسا۔
ٹیلی گرام چینل پر نشر ہونے والی خبر جس کی بعد ازاں روسی ہیلتھ ماہرین نے تصدیق کی۔ ماسکو سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ نوجوان نے مبینہ طور پر سرنج سے اپنا خون نکالا اور پی لیا۔ انہوں نے ایسا خون میں آئرن کی مقدار بڑھانے کے لیے کیا۔
کچھ دیر بعد نوجوان کی صحت خراب ہونے لگی، خون کی الٹیاں لگ گئیں اور پھر بخار ہوگیا۔
مزید پڑھیںگوئٹے مالا: لوڈو کے طرز کا قدیم پُراسرار کھیل دریافت
ایک وقت پر نوجوان کی طبیعت اتنی خراب ہوگئی کے خاندان والوں کو اس کو ایمرجنسی میں لے جانا پڑا، جہاں معلوم ہوا کہ وہ ان کے جسم میں شدید زہر پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے ان کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔
ڈاکٹروں نے نوجوان کی جان بچائی لیکن اس کا یہ حال کیوں ہوا یہ جان کر ڈاکٹر ششد رہ گئے۔
نوجوان نے بتایا کہ اس نے ایسا سوشل میڈیا پر ایک کلپ دیکھ کر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔