چاندی سونے کی جڑی بوٹی
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
’’ پہلے میری دوائیں ڈھائی ہزار روپے میں آتی تھیں، اب وہی دوائیں پانچ ہزار روپے میں آ رہی ہیں چند سالوں میں دواؤں کی قیمتوں میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘‘
مہنگائی کی تیز رفتاری نے جہاں ہمارے ملک میں ایک تشویش ناک صورت حال پیدا کر دی ہے، وہیں شدید بیماریوں کے مریض بھی پریشانی میں مبتلا ہیں۔
امراض قلب، شوگر،کینسر اور دیگر ایسے امراض جن میں مریض مستقل دوائیں ایک روٹین کے مطابق کھاتے ہیں، جو ان کی صحت کے لیے اشد ضروری ہیں، ایسے میں ان کی قیمتوں میں آگ لگ جائے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔
ایک ڈیڑھ صفحے کے مضمون کو پڑھ کر سوچ کے کئی در وا ہوئے تھے، یہ درست ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ چین، جاپان، تبت اور دیگر ممالک میں عرصہ دراز سے ہربل ادویات کا استعمال جاری تھا، انگریزی ادویات کے سیلاب اور تیز ترین علاج کے حصول کے لیے ہربل ادویات کو کنارے لگا دیا گیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ اس فیلڈ کو ایک فیصد بزنس میں تبدیل کر دیا گیا۔ دنیا بھر میں خاص کر یورپی ممالک ان ادویات کا مرکز ٹھہرے جہاں ان کی پیداوار تحقیقات نے لوگوں میں نئی سوچ پیدا کی۔
کیمیائی عوامل کے ساتھ انسانی جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی طاقت، مدافعت اور شفایابی تک کا سفر کامیابی سے جاری تھا اور ہنوز جاری ہے لیکن ان تمام کی تیاری میں مہنگائی نے اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ ایک عام آدمی علاج کو خسارے کا سودا سمجھ کر دور ہو رہا ہے۔
صرف یہی نہیں بلکہ ہر دوائی کے سائیڈ افیکٹس نے بھی امراض میں مسائل پیدا کرنے شروع کر دیے، گو یقینا اس کے علاج اور ادویات کی افادیت سے انکارکرنا مشکل ہے لیکن قدرت کے اس عمل کو شاید حضرت انسان اپنی عقل مندی سمجھتے ہیں جب کہ فطرت سے زیادہ عرصہ دور رہنا بھی مشکل ہے، سو ایسا ہو رہا ہے اور لوگ ایک بار پھر ہربل ادویات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کی زمین قدرتی جڑی بوٹیوں کے معاملے میں خاصی زرخیز ہے۔ یہ قدرت کا انمول تحفہ ہی ہے جسے ہمارے یہاں ناقدری کی سیاست نے کمزور کر رکھا ہے۔
ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ہالینڈ سے ایک عزیز نے کلونجی کے فوائد کے بارے میں ایک لمبا چوڑا پیغام لکھ کر بھیجا تھا جس میں اس نے ایک انگریز کی داستان لکھی تھی جسے کسی بیماری کے سلسلے میں کلونجی سے فائدہ ہوا تھا۔
اس انگریز نے بلیک سیڈ کے حوالے سے تعریفوں کے پُل باندھ دیے تھے، جس کی چھوٹی سی بوتل اس نے ہزاروں پاکستانی روپوں میں خریدی تھی، بعد میں ہمارے عزیز نے بلیک سیڈ پر ریسرچ کی تو پتا چلا کہ یہ تو وہی کلونجی ہے جو بچپن میں اس کی دادی اچار میں ڈالا کرتی تھیں۔
اس نے نہ صرف کلونجی کھانے کی تلقین کی تھی بلکہ پاکستان کی یاد بھی دل میں ابھری تھی کہ اس کے ملک میں تو چند روپوں میں ڈھیر ساری قیمتی کلونجی آجاتی ہے۔
یہ ایک گلہ تھا جو کچھ عرصہ پہلے ہی سامنے آیا تھا لیکن حقیقت جان کر انتہائی افسوس ہوا کہ ہمارے ملک میں نہ صرف کلونجی بلکہ سنامکی، اجوائن، سونف، دھنیا، مورنگا، زیتون کے پتے، قدرتی شہد اور شہد میں شامل ہربل ایکسٹریکٹس بھی باآسانی دستیاب ہیں جنھیں ہم باقاعدہ ریسرچ، برانڈنگ اور معیار کے ساتھ دنیا بھر میں پیش کر سکتے ہیں اس کی عالمی منڈی میں بہت مانگ ہے۔
علاج کے علاوہ کاسمیٹکس کی مصنوعات میں بھی قدرتی اجزا یعنی جڑی بوٹیوں کا استعمال مفید نتائج سامنے لا رہا ہے۔
خواتین ہربل سے بنی اشیا کو استعمال کرنا زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں، اس حوالے سے ایک بڑی منڈی منتظر ہے لیکن ہم اپنے ملک میں موجود نایاب جڑی بوٹیوں اور اجزا کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
خدا جانے کیا وجہ ہے کہ ہم ان قیمتی جڑی بوٹیوں کو خام مال کی صورت میں دوسرے ممالک میں ایکسپورٹ کر رہے ہیں جب کہ ہم ان کو معیار اور برانڈنگ کے ساتھ خود بھی منڈی میں فروخت کر سکتے ہیں لیکن ہم دوسرے ممالک کو منافع سجا کر دے رہے ہیں۔
شاید ہمیں زیادہ منافع کی خواہش ہی نہیں، لہٰذا ہمارے مال سے دوسرے منافع بنا رہے ہیں، اس عجیب اور پیچیدہ صورت حال کی وجہ کیا ہے؟ یہ جاننا مشکل ہے اس لیے کہ بہت ساری دیگر وجوہات کی طرح یہ بھی خام مال کی صورت کہیں دفن ہے۔
ہمارے یہاں اشواگندھا، ستاو، سفید موصلی اور دیگر جڑی بوٹیاں بھارت اور چین پہنچائی جا رہی ہیں نام ریسرچ کا ہی ہوتا ہے اور وہاں سے یہ برانڈ ریسرچ اور دیگر مراحل سے ہوتی مہنگے داموں بیچ دی جاتی ہے۔
امریکا، ہالینڈ اور دیگر یورپی ممالک سے لے کر دبئی، سعودی عرب اور دوسرے گلف کی ریاستوں میں اپنے ملک اور برانڈ کے ساتھ فروخت کی جاتی ہیں جنھیں ہمارے پاکستانی بھی انڈیا کی کلونجی کہہ کر خریدنے پر مجبور ہیں صرف یہی نہیں ہمارا گلابی نمک بھی انڈیا کے ٹھپے کے ساتھ بیرون ممالک دستیاب ہے۔
کوئی جانتا ہے کہ کیوں ہمارا پنک سالٹ ایک دوسرے ملک کے نام کے ساتھ فروخت ہو کر ان کے زرمبادلہ میں اضافہ کر رہا ہے۔
پاکستان کی زمین اس اعتبار سے زرخیز ہے کہ یہاں وہ جڑی بوٹیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں جو چین اور انڈیا میں کاشت ہو رہی ہیں۔
ماہرین نباتات کے مطابق یہاں پانچ سو سے زائد ایسی جڑی بوٹیاں اور پودے پائے جاتے ہیں جنھیں ہربل میڈیسن کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن ہمارے یہاں تحقیق کے معاملے میں بہت سست روی سے کام لیا جا رہا ہے۔
بھارت میں آیورویدک اور ہربل میڈیسن کے حوالے سے زور و شورسے کام ہو رہا ہے جہاں کینسر سے لے کر حسن کے مسائل تک کے لیے ہربل اور آیورویدک کی جانب دیکھا جا رہا ہے۔
سر میں لگانے والا تیل ہو یا بڑے امراض کھلے عام علاج کے لیے بڑے بڑے مراکز کام کر رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں وہاں قدیم پریشر پوائنٹس پر بھی کام کیا جا رہا ہے جب کہ ہمارے ملک میں ہربل ادویات کی جانب سے جان بوجھ کر تساہل برتا جا رہا ہے۔
پنجاب کے کئی علاقوں سے لے کر گلگت بلتستان تک میں جڑی بوٹیوں کی کاشت کی جا رہی ہے لیکن حکومتی سطح پر قابل قدر کارروائی نہیں کی جا رہی۔
ہم اپنا قیمتی خام مال چین، انڈیا اور دیگر ممالک کے ہاتھ بیچ رہے ہیں اور آگے وہ ہمارے ہی مال میں اپنے لیبل چسپاں کرکے بڑے بڑے اشتہاری پروگرام چلا کر اندرون اور بیرون ملک منافع کما رہے ہیں۔
کیا ہم اپنے ملک کے مفاد کی خاطر آیندہ آنے والی نسلوں اور اپنے عوام کے لیے سستی ادویات فراہم کر سکتے ہیں، کیا ہم کلونجی کا تیل عوام سے نکالنے کے بجائے کلونجی سے نکالنے پر توجہ دے سکتے ہیں۔ 2026 میں ہم ایک نئے عہد کے ساتھ ایک انڈسٹری کو توانا کر سکتے ہیں کہ اس میں فائدہ ہمارا ہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہربل ادویات کر سکتے ہیں جڑی بوٹیوں جا رہا ہے اور دیگر ملک میں ہی نہیں ہے لیکن رہے ہیں کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔