گٹر میں گر کر بچی جاں بحق ہونا انتظامیہ کی نا اہلی ہے،سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-4-2
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان سنی تحریک حیدرآباد کے ڈویژنل صدر عابد قادری نے اپنے ایک مذمتی بیان میں کہا ہے کہ آج پھر ہالہ ناکہ پر ایک اور معصوم بچی گٹر میں گر اپنی زندگی کی بازی ہار گئی لیکن ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ ادارے چین کی نیند سو رہے ہیں، معصوم بچوں کی اموات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ میئر حیدرآباد ڈی سی حیدرآباد تمام ٹائون چیئرمین یوسی چیئرمین سمیت سب گٹر کے ڈھکن لگاتے نظر آتے ہیں لیکن درجنوں مرتبہ ڈھکن لگانے کے باوجود آج بھی گٹروں کے ڈھکن نہیں ہیں، آج تک ڈھکن لگانے کی مد میں کم و بیش کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن شہر حیدرآباد کی حالت جیسی تھی اس سے زیادہ خراب ہوچکی ہے گٹر کے ڈھکن کی مد میں خرچ ہونے والے پیسوں کی تحقیقات ہونی چاہیے بالخصوص واسا افسران جو کہ صرف ڈھکن کی مد میں کروڑوں کا قومی خزانے کو نقصان پہنچا چکے ہیں اس کے باوجود نالے گٹر کھلے ہوئے ہیں کئی سانحات ہونے کے باوجود انتظامیہ خواب غفلت میں ہے تلسی داس نالہ لیاقت کالونی نالہ تین نمبر تالاب والا نالا آج بھی کھلے ہوئے ہیں اور موت کا منظر پیش کررہے ہیں یہ نالے کئی لوگوں کی جانیں لے چکے ہیں کراچی کے بعد حیدرآباد میں معصوم بچوں کا گٹر میں گر کر موت کے منہ میں چلے جانا ہم سب کے لئے سوالیہ نشان ہے ٹان چیئرمین تو کروڑوں روپے ہڑپ کر کے ہیں حیدرآباد کے کسی بھی ٹان چیئرمین نے اپنے حلقے میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے کوئی عملی ترقیاتی کام نہیں کئے آڈٹ والوں کو کمیشن دیکر آسانی سے ترقیاتی اسکیموں کے بل پاس کروائے گئے ہیں لوکل گورنمنٹ میں بیٹھے افراد اپنا کمیشن لیکر اپنے جیبیں گرم کرکے ہیں شہر حیدرآباد کے ہر معزز شہری اور تاجر برادری سمیت اینٹی کرپشن کے علم میں یہ بات ہے کہ کتنا کمیشن لیکر جعلی بل پاس کروائے جارہے ہیں لیکن سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ہم حکومت سندھ سمیت اعلی حکام مطالبہ کرتے ہیں حیدرآباد میں بلدیاتی اداروں میں ہونے والی کرپشن پر تحقیقات کرے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ہیں
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔