Express News:
2026-07-24@04:49:28 GMT

کاہے کی مبارک باد؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

’’دو کلو وزن فالتو ہے، اس کے چارجز ادا کرنے ہوں گے۔‘‘

ایئر لائن اسٹاف نے کہا۔ ’’ہم تین لوگ اکٹھے چیک ان کر رہے ہیں، باقی دو کے وزن میں کافی گنجائش ہے۔‘‘

ایئر لائن اسٹاف نے وضاحت کی ’’جی نہیں، ہمارا۔اصول انفرادی وزن لمٹ ہے۔‘‘ ہم نے باکس واپس اٹھایا، وزن برابر کرنے کے لیے کچھ چیزوں کو ہمراہی کے باکس میں منتقل کیا اور سامان کلیئر کرایا۔

ترکی کے ایک ایئرپورٹ پر اندرون ملک کی فلائٹ کے اس واقعے سے ہمیں اپنے ملک کی موجیں یاد آئیں، جب پی آئی اے کاؤنٹر اسٹاف چار کلو زائد وزن پر مسافر سے ڈیمانڈ کرتے کہ فالتو وزن کا کرایہ دیں یا وزن کم کریں۔

اکثر مسافروں کو اس بات پر ایئر لائن عملے کو شرمندہ کرتے دیکھا کہ چار کلو ہی کی تو بات ہے! اس کے علاوہ درجنوں بار دیکھا کہ باقاعدہ منظم طریقے سے فالتو وزن لے جانے والے انٹرنیشنل مسافر کسی سفارش کا بندوبست کرتے کہ چیک ان کے وقت فالتو وزن بخیر و خوبی بغیر کسی اضافی چارجز کے کلیئر ہو جائے۔

یہ دو رخ کامیاب کمرشل ائر لائن اور پی ائی اے کے زوال کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

یہ تو ٹھہرے ہم ایسے عام لوگ لیکن خاص اور اشرافیہ کے مزے ہی کچھ اور دیکھے ،فری ٹکٹس، مختص وی آئی پی سیٹیں، فالتو وزن پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ، حتیٰ کہ اعلیٰ ترین عہدے دار اپنے یا اپنے کسی دوست کے لیے تاخیر کی صورت میں پوری فلائٹ روکنے کے استحقاق پر فخر کرتے دیکھے۔

پی آئی اے کے 70 سالہ قیام میں گزشتہ 30 /40 سالوں کے دوران سیاسی مداخلت ، انتظامی بد انتظامی، مالیاتی بد انتظامی اور ادارے کو کاروباری بنیادوں پر چلانے کے بجائے مال غنیمت سمجھ کر ہر سطح پر نوچنے کی روش نے پی ائی اے کو موجودہ مقام پر پہنچایا۔

رواں ہفتے خدا خدا کرکے کئی سالوں کی کوششوں کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کا پہلا سنگ میل عبور ہو گیا۔

ڈیل کے مطابق خریدار کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے ہیں۔ اس رقم میں سے حکومت کو فقط 10 ارب روپے نقد وصول ہوں گے جب کہ خریدار کنسورشیم بقیہ 125 ارب روپے کی ائر لائن میں براہ راست سرمایہ کاری کرے گا۔

علاوہ ازیں اگلے پانچ سالوں میں کنسورشیم 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کرنے کا پابند ہوگا۔

پی آئی اے کے ساتھ زوال کا حادثہ تین چار دہائیوں سے پرورش پا رہا تھا۔ آٹھ دس سال پہلے پی آئی اے کے آڈیٹرز نے اپنی ابزرویشن دے دی تھی کہ یہ ادارہ Going Concern نہیں ہے یعنی یہ ادارہ چلتے رہنے کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ آپ اس ائیر لائن کے مالک ہیں جس کے نمایاں پہلو کچھ یوں ہیں:

لگ بھگ 34 میں سے صرف 18/19 جہاز آپریشنل ہیں۔جہازوں کے اوسط عمر 18 سال سے زائد ہے۔ عمر رسیدہ جہازوں کی ایندھن کھپت اور مینٹیننس انڈسٹری سے کہیں زیادہ یے۔

انڈسٹری کے عالمی معیار کی نسبت ملازمین کی فی جہاز تعداد تین/ چار گنا ہے۔گزشتہ دس سال سے بھی زائد عرصے سے نیٹ ورتھ یعنی صافی سرمایہ سیکڑوں ارب روپے نیگیٹو ہے۔

سالہاسال سے جمع نقصان 500 ارب سے زائد اور قرضوں / ادائیگیوں کا کل حجم 785 ارب روپے ہے۔ائیر لائن کے پاس لینڈنگ رائٹس کے باوجود یورپ میں پابندی ہے وغیرہ وغیرہ۔

آپ اس ائیر لائن کے کاروبار کو کتنی دیر مزید کھینچ لیں گے؟… شاید ایک دن بھی نہیں۔پی آئی اے جیسے قومی ادارے کے ساتھ بھی یہی کاروباری انداز اپنانے کی ضرورت تھی لیکن گزشتہ 20 سالوں کے دوران میں مختلف سیاسی حکومتوں نے نوشتہ دیوار پہ لکھے سے آنکھیں چرائیں۔

بالاخر موجودہ حکومت کو وہی کچھ کرنا پڑا ہے جو بہت سے ملکوں نے ایسی صورتوں میں مجبوراً کیا۔ 2024 میں حکومت نے پی آئی اے کے مالیاتی نظم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔

پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں گزشتہ سال ہی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرضوں کا بوجھ منتقل کر دیا گیا۔ جب کہ پی آئی اے کو ایئر کرافٹ سے متعلق اثاثوں اور قرضوں کی بنیاد پر علیحدہ ٹریٹ کیا گیا۔

اس فنانشل انجینئرنگ سے پی آئی اے کی گزشتہ سال 2024 کی فائننشل اسٹیٹمنٹ کلین ہو گئی۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ 650 ارب روپے کے قرض دریا برد یا غتر بود ہو گئے۔

جی نہیں، بلکہ خاموشی سے یہ قرضے حکومت نے بالواسطہ طور پر اپنے ذمے لے لیے یعنی ماضی کی بد انتظامیوں اور نااہلیوں کا یہ پہاڑ اب عوام کے ٹیکسوں سے سر کیا جائے گا۔

خریدار کنسورشیم نے ایک کلین کاروبار خریدا ہے جس کے پاس نام، پرانی ساکھ اور مارکیٹ کا تجربہ ہے، لینڈنگ رائٹس ہیں، کارگو، کچن سمیت دیگر منافع بخش کاروبار ہیں اور سیاسی جھنجھٹ سے آزاد ادارہ جسے وہ کاروباری انداز میں چلا سکتے ہیں۔

فوجی فرٹیلائزرز جیسے ادارے کی کنسورشیم میں شرکت سے خریدار گروپ کو ایک تگڑا ساجھے دار بھی مل گیا ہے جو ائرلائن جیسے پیچیدہ کاروبار چلانے کے دوران ’’آہ و بکا‘‘ کے ممکنہ مقامات پر معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ان حالیہ سالوں کے دوران جب پی آئی اے بد انتظامی، اپنوں پرایوں کی کرپشن ، کاروباری لڑکھڑاہٹ ، عدم سرمایہ کاری اور سیاسی مداخلت کے ہاتھوں زمین بوس ہو رہی تھی دنیا میں اچھی ائیر لائنز آسمان چھو رہی تھیں۔

اسی دوران سیکیورٹی حالات نے نہلے پر دہلا مارا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے چند ایشیائی ائیر لائینز کے سوا بڑی انٹرنیشنل ائیر لائنز نے پاکستان سے آپریشنز معطل کر دیے۔

گزشتہ کئی سالوں سے اب یہ عالم ہے کہ تین چار مڈل ایسٹرن اور ایک دو انٹرنیشنل ائیرلائنز پاکستان سے انٹرنیشنل ٹریولنگ کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

من مرضی کے کرائے ہیں جب کہ مسافروں کی بہتات کا یہ عالم ہے کہ سیٹ کے لیے ایڈوانس تردد کرنا پڑتا ہے۔ دہائیوں سے جو بزنس پی آئی اے نے بنایا وہ بنا سنورا اب دوسروں کے کام آ رہا ہے۔

اس کے باوجود ہم خودانکاری پر بضد اور خوش گمانی پر مصر ہیں۔ اپنی کوتاہیوں پر کوئی افسوس نہ بد انتظامیوں پر کوئی پوچھ گچھ، ایک بے مثال قومی سرمایہ اہل اقتدار نے دھڑلے سے گنوایا جیسے کوئی بے رحمانہ انداز میں اپنے لیے ایک بوٹی کی خاطر پورا بکرا ذبح کر دے۔

اب یہ عالم ہے کہ مستقبل کے خسارے سے جاں بخشی اور 650 ارب روپے کی ذمے داری اپنے سر لے کر حکومت ستائش کی متمنی ہے۔ کاہے کی مبارک! کس کس کو دیں مبارک؟ کہ بہت سوں کی کئی دہائیوں کی اجتماعی ’’کوششوں‘‘ نے ادارے کو آسمان سے زمین پر دے مارا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے کے ائیر لائن کے دوران ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف