Express News:
2026-07-24@05:42:53 GMT

کاہے کی مبارک باد؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

’’دو کلو وزن فالتو ہے، اس کے چارجز ادا کرنے ہوں گے۔‘‘

ایئر لائن اسٹاف نے کہا۔ ’’ہم تین لوگ اکٹھے چیک ان کر رہے ہیں، باقی دو کے وزن میں کافی گنجائش ہے۔‘‘

ایئر لائن اسٹاف نے وضاحت کی ’’جی نہیں، ہمارا۔اصول انفرادی وزن لمٹ ہے۔‘‘ ہم نے باکس واپس اٹھایا، وزن برابر کرنے کے لیے کچھ چیزوں کو ہمراہی کے باکس میں منتقل کیا اور سامان کلیئر کرایا۔

ترکی کے ایک ایئرپورٹ پر اندرون ملک کی فلائٹ کے اس واقعے سے ہمیں اپنے ملک کی موجیں یاد آئیں، جب پی آئی اے کاؤنٹر اسٹاف چار کلو زائد وزن پر مسافر سے ڈیمانڈ کرتے کہ فالتو وزن کا کرایہ دیں یا وزن کم کریں۔

اکثر مسافروں کو اس بات پر ایئر لائن عملے کو شرمندہ کرتے دیکھا کہ چار کلو ہی کی تو بات ہے! اس کے علاوہ درجنوں بار دیکھا کہ باقاعدہ منظم طریقے سے فالتو وزن لے جانے والے انٹرنیشنل مسافر کسی سفارش کا بندوبست کرتے کہ چیک ان کے وقت فالتو وزن بخیر و خوبی بغیر کسی اضافی چارجز کے کلیئر ہو جائے۔

یہ دو رخ کامیاب کمرشل ائر لائن اور پی ائی اے کے زوال کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

یہ تو ٹھہرے ہم ایسے عام لوگ لیکن خاص اور اشرافیہ کے مزے ہی کچھ اور دیکھے ،فری ٹکٹس، مختص وی آئی پی سیٹیں، فالتو وزن پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ، حتیٰ کہ اعلیٰ ترین عہدے دار اپنے یا اپنے کسی دوست کے لیے تاخیر کی صورت میں پوری فلائٹ روکنے کے استحقاق پر فخر کرتے دیکھے۔

پی آئی اے کے 70 سالہ قیام میں گزشتہ 30 /40 سالوں کے دوران سیاسی مداخلت ، انتظامی بد انتظامی، مالیاتی بد انتظامی اور ادارے کو کاروباری بنیادوں پر چلانے کے بجائے مال غنیمت سمجھ کر ہر سطح پر نوچنے کی روش نے پی ائی اے کو موجودہ مقام پر پہنچایا۔

رواں ہفتے خدا خدا کرکے کئی سالوں کی کوششوں کے بعد پی آئی اے کی نجکاری کا پہلا سنگ میل عبور ہو گیا۔

ڈیل کے مطابق خریدار کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے ہیں۔ اس رقم میں سے حکومت کو فقط 10 ارب روپے نقد وصول ہوں گے جب کہ خریدار کنسورشیم بقیہ 125 ارب روپے کی ائر لائن میں براہ راست سرمایہ کاری کرے گا۔

علاوہ ازیں اگلے پانچ سالوں میں کنسورشیم 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کرنے کا پابند ہوگا۔

پی آئی اے کے ساتھ زوال کا حادثہ تین چار دہائیوں سے پرورش پا رہا تھا۔ آٹھ دس سال پہلے پی آئی اے کے آڈیٹرز نے اپنی ابزرویشن دے دی تھی کہ یہ ادارہ Going Concern نہیں ہے یعنی یہ ادارہ چلتے رہنے کی شرائط پر پورا نہیں اترتا۔ ایک لمحے کے لیے فرض کریں کہ آپ اس ائیر لائن کے مالک ہیں جس کے نمایاں پہلو کچھ یوں ہیں:

لگ بھگ 34 میں سے صرف 18/19 جہاز آپریشنل ہیں۔جہازوں کے اوسط عمر 18 سال سے زائد ہے۔ عمر رسیدہ جہازوں کی ایندھن کھپت اور مینٹیننس انڈسٹری سے کہیں زیادہ یے۔

انڈسٹری کے عالمی معیار کی نسبت ملازمین کی فی جہاز تعداد تین/ چار گنا ہے۔گزشتہ دس سال سے بھی زائد عرصے سے نیٹ ورتھ یعنی صافی سرمایہ سیکڑوں ارب روپے نیگیٹو ہے۔

سالہاسال سے جمع نقصان 500 ارب سے زائد اور قرضوں / ادائیگیوں کا کل حجم 785 ارب روپے ہے۔ائیر لائن کے پاس لینڈنگ رائٹس کے باوجود یورپ میں پابندی ہے وغیرہ وغیرہ۔

آپ اس ائیر لائن کے کاروبار کو کتنی دیر مزید کھینچ لیں گے؟… شاید ایک دن بھی نہیں۔پی آئی اے جیسے قومی ادارے کے ساتھ بھی یہی کاروباری انداز اپنانے کی ضرورت تھی لیکن گزشتہ 20 سالوں کے دوران میں مختلف سیاسی حکومتوں نے نوشتہ دیوار پہ لکھے سے آنکھیں چرائیں۔

بالاخر موجودہ حکومت کو وہی کچھ کرنا پڑا ہے جو بہت سے ملکوں نے ایسی صورتوں میں مجبوراً کیا۔ 2024 میں حکومت نے پی آئی اے کے مالیاتی نظم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔

پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں گزشتہ سال ہی آئی اے کے 650 ارب روپے کے قرضوں کا بوجھ منتقل کر دیا گیا۔ جب کہ پی آئی اے کو ایئر کرافٹ سے متعلق اثاثوں اور قرضوں کی بنیاد پر علیحدہ ٹریٹ کیا گیا۔

اس فنانشل انجینئرنگ سے پی آئی اے کی گزشتہ سال 2024 کی فائننشل اسٹیٹمنٹ کلین ہو گئی۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ 650 ارب روپے کے قرض دریا برد یا غتر بود ہو گئے۔

جی نہیں، بلکہ خاموشی سے یہ قرضے حکومت نے بالواسطہ طور پر اپنے ذمے لے لیے یعنی ماضی کی بد انتظامیوں اور نااہلیوں کا یہ پہاڑ اب عوام کے ٹیکسوں سے سر کیا جائے گا۔

خریدار کنسورشیم نے ایک کلین کاروبار خریدا ہے جس کے پاس نام، پرانی ساکھ اور مارکیٹ کا تجربہ ہے، لینڈنگ رائٹس ہیں، کارگو، کچن سمیت دیگر منافع بخش کاروبار ہیں اور سیاسی جھنجھٹ سے آزاد ادارہ جسے وہ کاروباری انداز میں چلا سکتے ہیں۔

فوجی فرٹیلائزرز جیسے ادارے کی کنسورشیم میں شرکت سے خریدار گروپ کو ایک تگڑا ساجھے دار بھی مل گیا ہے جو ائرلائن جیسے پیچیدہ کاروبار چلانے کے دوران ’’آہ و بکا‘‘ کے ممکنہ مقامات پر معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

ان حالیہ سالوں کے دوران جب پی آئی اے بد انتظامی، اپنوں پرایوں کی کرپشن ، کاروباری لڑکھڑاہٹ ، عدم سرمایہ کاری اور سیاسی مداخلت کے ہاتھوں زمین بوس ہو رہی تھی دنیا میں اچھی ائیر لائنز آسمان چھو رہی تھیں۔

اسی دوران سیکیورٹی حالات نے نہلے پر دہلا مارا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے چند ایشیائی ائیر لائینز کے سوا بڑی انٹرنیشنل ائیر لائنز نے پاکستان سے آپریشنز معطل کر دیے۔

گزشتہ کئی سالوں سے اب یہ عالم ہے کہ تین چار مڈل ایسٹرن اور ایک دو انٹرنیشنل ائیرلائنز پاکستان سے انٹرنیشنل ٹریولنگ کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

من مرضی کے کرائے ہیں جب کہ مسافروں کی بہتات کا یہ عالم ہے کہ سیٹ کے لیے ایڈوانس تردد کرنا پڑتا ہے۔ دہائیوں سے جو بزنس پی آئی اے نے بنایا وہ بنا سنورا اب دوسروں کے کام آ رہا ہے۔

اس کے باوجود ہم خودانکاری پر بضد اور خوش گمانی پر مصر ہیں۔ اپنی کوتاہیوں پر کوئی افسوس نہ بد انتظامیوں پر کوئی پوچھ گچھ، ایک بے مثال قومی سرمایہ اہل اقتدار نے دھڑلے سے گنوایا جیسے کوئی بے رحمانہ انداز میں اپنے لیے ایک بوٹی کی خاطر پورا بکرا ذبح کر دے۔

اب یہ عالم ہے کہ مستقبل کے خسارے سے جاں بخشی اور 650 ارب روپے کی ذمے داری اپنے سر لے کر حکومت ستائش کی متمنی ہے۔ کاہے کی مبارک! کس کس کو دیں مبارک؟ کہ بہت سوں کی کئی دہائیوں کی اجتماعی ’’کوششوں‘‘ نے ادارے کو آسمان سے زمین پر دے مارا ہے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے کے ائیر لائن کے دوران ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف