پاکستانی عوام اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ ایک خاموشی ہے! ایک ایسی خاموشی جو ہار ماننے کی نہیں بلکہ مسلسل آزمائش، مسلسل نظرانداز ہونے اور بار بار دھوکا کھانے کے بعد پیدا ہونے والی تھکن کی علامت ہے۔کوئی امید نظر نہیں آتی، ہر طرف مایوسی کی فضا ہے۔
لوگ تھک گئے ہیں سوال کر کے اور انھیں اندازہ ہے کہ ان کو اپنے کسی سوال کا جواب نہیں ملے گا۔ انھیں معلوم ہے کہ ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔
مہینے کے آغاز میں یہ فکر ہوتی ہے کہ محدود تنخواہ میں اخراجات کس طرح پورے کیے جائیں۔ بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کا بل، بچوں کی فیس،دوا، کرایہ اور دیگر ضروریات زندگی کو باعزت طریقے سے کیسے ممکن بنایا جائے۔
بہت سی چیزیں اس لیے خاموشی سے فہرست سے کاٹ دی جاتی ہیں۔ ایک عام شہری بڑی مشکل سے زندگی بسر کر رہا ہے۔
ریاست اور شہری کے درمیان جو رشتہ کبھی وعدوں، دعوؤں اور اجتماعی خوابوں پر قائم تھا، اب مفاہمت اور مجبوری پر چل رہا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ بہت کچھ بدلنے والا نہیں، اس لیے وہ صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ قوم اب اس مقام پر آچکی ہے جہاں بہتری کی امید بھی ایک ایسا خواب یا خواہش لگتی ہے جو پوری نہیں ہوسکتی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انکارکی قوت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
جب ناانصافی روزمرہ کا معمول بن جائے تو انسان صرف مظلوم نہیں رہتا، وہ ایک خاموش شراکت دار بن جاتا ہے، ایسا شراکت دار جو جانتا ہے کہ یہ غلط ہے مگر اس کے پاس انکارکی طاقت نہیں بچی۔
محنت کش طبقہ جسے کبھی تبدیلی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، آج محض بقا کی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ فیکٹریوں، ورکشاپوں، دکانوں، دفاتر اورگھروں میں کام کرنے والے لوگ اب حقوق کی بات کم اور نوکری بچانے کی بات زیادہ کرتے ہیں۔
یونینیں کمزور ہو چکی ہیں، اجتماعی آواز بکھر چکی ہے اور مزدور تنہا ہوگیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے اسے صرف محنت کرنے والا انسان نہیں رہنے دیا بلکہ ہر وقت قابلِ استعمال اورکسی بھی لمحے قابلِ مسترد شے بنا دیا ہے۔ ریاست نے اس پورے عمل کو روکنے کے بجائے اکثر اوقات اس کی سہولت کاری کی ہے۔
درمیانہ طبقہ جو کسی زمانے میں سماجی توازن کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج سب سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ اس کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے مگر بچانے کی قوت نہیں۔ وہ ہر دن نیچے گرنے کے اندیشے میں جیتا ہے اور یہی اندیشہ اسے خاموش رکھتا ہے۔
یہ طبقہ جانتا ہے کہ احتجاج کی قیمت فوری اور بھاری ہوتی ہے جب کہ خاموشی کی قیمت آہستہ آہستہ قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔
یہی سوچ اسے نظام کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ یہی طبقہ اس پورے منظرنامے کی سب سے بڑی اخلاقی شکست ہے، کیونکہ یہ ظلم کو پہچانتا بھی ہے اور اس سے نظریں بھی چراتا ہے۔
خواتین کے لیے یہ تھکن دہری بلکہ تہری ہے۔ معاشی دباؤ، سماجی جبر اور ریاستی بے حسی کے درمیان وہ ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش میں ہیں۔
ایک طرف زندہ رہنے کی جدوجہد دوسری طرف عزت، آزادی اور خود داری کا سوال۔ عورتیں اب صرف مظلوم نہیں رہیں، وہ اس اجتماعی تھکن کی سب سے زیادہ شکار ہیں۔
وہ گھروں میں، دفاتر میں، فیکٹریوں میں اور اپنے اندر بہت سے دکھ لیے جی رہی ہیں۔ ان کے کندھوں پر صرف خاندان نہیں پورا سماج ٹکا ہوا ہے مگر ان کی آواز اب بھی سب سے کم سنی جاتی ہے۔
تعلیم جو ہمیں آگے بڑھنے اور کچھ کرگزرنے کا حوصلہ دیتی تھی، اب ایک مہنگا کاروبار بن چکی ہے۔ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در بدر پھر رہے ہیں۔ جن کے پاس ہنر ہے وہ ملک چھوڑنے کے منصوبے بنا رہے ہیں اور جن کے پاس وسائل نہیں وہ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتے ہیں۔
ترک وطن اب کسی خاص طبقے کا مسئلہ نہیں رہی، یہ ایک اجتماعی خواب بن چکی ہے۔ جو نہیں جا سکتے وہ یہ سوچ کر غمگین رہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی راستہ کوئی ذریعہ نہیں کہ اپنے اور اپنے خاندان کے حالات میں سدھار لاسکیں۔
ریاستی بیانیہ عوام کے حقوق اور ان کے مسائل کیا ہیں سمجھنے سے قاصر ہے۔ ایک عام آدمی کی زندگی کس طرح بسر ہو رہی ہے، اس کا اندازہ ہماری حکومت اور سیاسی نمایندوں کو بالکل بھی نہیں۔ یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔
عام پاکستانی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی سانحہ روزمرہ کا حصہ بن چکا ہے۔ میڈیا شور مچاتا ہے مگر اس شور میں ہمدردی کم اور تماشا زیادہ ہوتا ہے۔ عام انسان خاموشی سے دکھ درد جھیل رہا ہوتا ہے اور یہی خاموشی سب سے زیادہ چیختی ہے۔ یہ چیخ ہمیں سنائی نہیں دیتی کیونکہ ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔
بائیں بازو کی سیاست جس سے کبھی نجات کی امید وابستہ تھی خود سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ کیا وہ بدلتی ہوئی زمینی حقیقت کو سمجھ رہی ہے یا اب بھی پرانے نعروں کی پناہ میں ہے؟
جب عوام تھک جائیں تو نظریے کو بھی نئے الفاظ، نئی زبان اور نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ نظریہ کتابوں میں زندہ رہتا ہے زندگی میں نہیں۔
اور اس سب کے باوجود اب بھی کچھ ختم نہیں ہوا۔ تھکن ہے مگر امید بھی ہے ایک بہتر کل کی، اس صبح کی جس کا خواب ہم سب نے دیکھا ہے۔ ایک جذبہ ایک ضد کسی فوری انقلاب کی نہیں بلکہ زندہ رہنے کی۔
لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ان کے دکھ درد بانٹتے ہیں، یہ چھوٹے چھوٹے عمل اس بات کی علامت ہیں کہ انسان ابھی مکمل طور پر شکستہ نہیں ہوا۔ یہی چھوٹے عمل کسی بڑے امکان کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ یہ ملک کب بدلے گا بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس تھکن کو پہچاننے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیونکہ جب تھکن کو سمجھ لیا جائے تو اس کا علاج بھی سوچا جا سکتا ہے لیکن اگر ہم اسے صبر یا مجبوری کا نام دے کر نظرانداز کرتے رہے تو ایک دن یہ صبر خاموش قبر میں بدل جائے گا۔
پاکستان آج محض معاشی بحران کا شکار نہیں ہے بلکہ ہماری سوچ کا مسئلہ ہے اور اگر انسان کی سوچ بیدار ہو جائے تو تھکا ہوا سماج بھی دوبارہ زندہ ہوجاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہے اور ہے مگر ہیں کہ کے پاس چکی ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس