Express News:
2026-06-02@23:58:20 GMT

دوستی رنگ و نسل سے ماورا ہوتی ہے…

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

’’آپ الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں بیٹا، اپنی ہم جماعتوں کے ساتھ کھیل میں شامل کیوں نہیں ہورہی ہیں؟‘ ‘ میںنے کھیل کے میدان میں نصب اس سنگی بنچ پر، اس پر کشش سانولی سلونی سی بچی کے پا س جا کر سوال کیا ۔’’وہ سب مجھے اپنے ساتھ کھیل میں شامل نہیں کرتیں‘‘۔

اس نے اداس سے لہجے میں کہا۔’’کیوں ، کیا آپ ان سے مل جل کر نہیں کھیلتیں؟‘‘ مجھے خیال آیا کہ کہیں و ہ بچی خود ہی ان سے مل جل کر نہ کھیلنا چاہتی ہو۔’’نہیں ، وہ کہتی ہیں کہ میں ان کی طرح خوبصورت نہیں ہوں، میرا رنگ بھی کالا ہے، حالانکہ میں پڑھائی میں ان سب سے آگے ہوں‘‘۔ تیسری جماعت کی بچی کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر میں دنگ رہ گئی تھی۔

’’آئیں میرے ساتھ!‘‘ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا اوراس گروپ کی طرف چلی جو فرش پر چاک سے لائنیں لگا کر کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔

اس کھیل میں اس ایک بچی کے سوا کلاس کی ساری بچیاں تھیں، وہ سب باری باری اس کھیل کو کھیلتیں اور جو نہیں کھیل رہی ہوتی تھیں وہ باہر دائرہ بنا کر کھڑی تھیں اور اپنی اس سہیلی کا حوصلہ بڑھا رہی ہوتیں جواس وقت کھیل میں مصروف ہوتی۔

میں اپنے دفتر کی کھڑکی سے ہی کافی دیر سے نظارہ کر رہی تھی اور اس وقت میں دفتر کاکام چھوڑ کر باہر آگئی تھی جس وقت میری نظر اس بچی پر پڑی تھی۔ میں اسے لیے جب اس کی ہم جماعتوں کے گروپ کے پاس پہنچی تو کئیوں نے ناک چڑھا کر اسے دیکھا، خاموش اس لیے رہیں کہ میں اس کے ساتھ تھی۔

اس بچی کا ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا، وہ کانپ رہا تھا، اسے خوف لاحق ہو رہا تھا کہ کوئی اسے کچھ ایسا نہ کہہ دے جو اسے پھر کمزور کر دے۔ ’’ چلیں بھئی بتائیں کہ ہانیہ کون سی ٹیم میں ہے؟‘‘

’’وہ میم… ‘‘ ایک بچی جو اس سارے گروپ کی لیڈر لگ رہی تھی، اس نے جواب دیا ، ’’ اب تو ہمارا کھیل ختم ہونے والا ہے اور یوں بھی اس میں کوئی ٹیم نہیں ہوتی، ہر کوئی اپنی باری پر تنہا کھیلتا ہے‘‘۔

’’چلیں پھر تو مسئلہ ہی حل ہو گیا!‘‘ میں نے کہا، ’’ آپ سب کو میں کافی دیر سے کھیلتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، سب لوگ کئی کئی بار کھیل چکے ہیں، آج آخری باری ہانیہ ہی ہے اور کل سے ہر روز ہانیہ کی پہلی باری ہوا کرے گی یا پھر آپ جب باقیوں کے لیے باری کا ٹاس کریں تو اس کے مطابق ہانیہ کی جو بھی باری آجائے گی… ٹھیک ہے نا!‘‘

’’ہر روز پہلی باری تو نہیں، ہم ہانیہ کو بھی ٹاس میں شامل کر لیا کریں گے، پھر اس کی جو بھی باری آجائے گی‘‘ ۔

ان بچوں کی اسی نمایندہ بچی نے کہا۔’’چلیں یہ بھی ٹھیک ہے لیکن مجھے اس کے بعد ہانیہ کبھی تنہا بیٹھی ہوئی نظرنہ آئے… آپ کی ذمے داری ہے بیٹا، آپ مجھے ان سب سے سمجھدار لگ رہی ہیں‘‘۔

میں نے اس کی انا کے غبارے میں ہوا بھری۔ ’’ آپ بریک کے بعدمیرے دفتر میں آئیں‘‘ ۔ میں نے کہا تو وہ ساری کلاس کے سامنے خود کو اہم محسوس کرنے لگی۔

’’آپ کو کس نے بنایا ہے حلیمہ ؟‘‘ اسے بیٹھنے کا کہہ کر میں نے سوال کیا ۔

’’ مجھے اللہ میاں نے بنایا ہے میم ‘‘۔ اس کے لہجے اور انداز میں اعتماد تھا۔’’ماشااللہ اور کتنا پیارا بنایا ہے‘‘۔

میں نے اس کی تعریف کی، وہ واقعی ایک خوب صورت بچی تھی۔’’مجھے کس نے بنایا ہے آپ کے خیال میں؟‘‘’’میم آپ کو بھی اللہ میاں نے بنایا ہے اور بہت پیارا بنایا ہے‘‘ ۔ اس نے بھی جوابا میری تعریف کی۔

’’شکریہ حلیمہ، اب آپ یہ بتائیں کہ ہانیہ کو کس نے بنایا ہے؟‘‘

’’میم ظاہر ہے کہ اسے بھی اللہ میاں نے ہی بنایا ہے مگر…‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔

’’مگرکیا؟‘‘ میںنے اس سے سوال کیا۔

’’وہ اصل میں اتنی، اتنی خوب صورت نہیں ہے، رنگ بھی کالا ہے … اس لیے سب اس کا مذاق اڑاتے ہیں ‘‘۔ اس بچی کے ایک بے ساختہ فقرے نے مجھے بتا دیا کہ اس کی تربیت کرنے والوں نے اس کے ذہن میں اچھائی کے معیار کا پیمانہ بہت سطحی بنایا ہے، اسے یہ بتایا گیا ہے کہ جو جیسا دکھتا ہے، وہ ویسا ہی ہوتا ہے۔

انسانوں یا جانوروں کی بھی اشکال اور رنگ جیسے بھی ہیں اس پر کوئی رائے نہیں دی جا سکتی کیونکہ ہم سب کو اللہ تعالی نے بنایا ہے اور اس کی کوئی تخلیق کیسے بری یابے مقصد ہو سکتی ہے۔

انسانوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں پسند اور ناپسند کے پیمانے ہو سکتے ہیں مگر اللہ تعالی کی بنائی ہوئی کسی چیز کو ہم برا کہیں، یہ درست نہیں۔ میں نے ان کی کلاس کی رپور ٹ نکلوا کر چیک کیں تو علم ہوا کہ واقعی ہانیہ کلاس کی سب سے بہترین طالبہ ہے مگر اس کا سلونا رنگ اتنا اہم ہے ،کلاس کے باقی بچوں کی نظر میں کہ اس کی ذہانت بھی مار کھا جاتی ہے ۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہم سب کو عادت ہوتی ہے لوگوں کو ان کے ظاہری حلیوں سے جانچنے کی اور ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کی۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہو ں تو ہمیں آئینہ وہ نہیں دکھاتا جو اصل ہے بلکہ ہمیں وہ نظر آتا ہے جو ہم لوگوں کی نظر میں ہیں جو ہمارے سامنے ہی ہمارے بے ر حمانہ تجزیے کرتے ہیں اور ہمارا اعتماد ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔

سب سے پہلے آپ خود کو یقین دلائیں کہ آپ اللہ تبارک و تعالی کی بہترین تخلیق ہیں اور اسے اسی طرح پسند ہیں جس طرح اس نے آپ کو بنایا ہے۔

سیاہ ترین رنگت کی حامل خواتین اور لڑکیاں جو ان ممالک میں ہیں جہاں سب کا رنگ ایسا ہی ہوتا ہے، ان میں اپنی رنگت کا کوئی کمپلیکس نہیں ہوتا، اس لیے وہ عالمی مقابلہ ء حسن تک میں بھی شامل ہوتی ہیں، ماڈلنگ اور اداکاری کرتی ہیں۔

حال ہی میں میں نے ایک ایسی لڑکی کی وڈیوز دیکھی ہیں جسے پھلبہری ہے اوروہ ایک میک اپ ماڈل ہے، وہ پورے اعتماد سے اپنے چہرے پر میک اپ کرواتی اور اپنی تصاویر اور وڈیو اپ لوڈ کرتی ہے۔

وہ اپنے چہرے کے پھلبہری سے متاثرہ حصے کو میک اپ کی کسی پراڈکٹ سے چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتی ہے، وہ ممالک ہم سے بڑھ کر ترقی یافتہ تو نہیں مگر ہاں اقدار میں شاید ہم سے بہترہوں گے کہ وہاں اگر اس طرح نوجوان بچیوں میں اعتماد ہے تو وہ یقینا ان میں اتنی آسانی سے نہیں آیا ہو گا۔

ان کا مذاق بھی اڑایا گیا ہو گا اور انھیں مایوس کیا جاتا ہو گا کہ ایسے میدانوں میں ان سیاہ فاموں کا کوئی اسکوپ نہیں ہے مگر وہ ہاریں یا جیتیں، ہمیشہ ایسے مقابلوں میں ان کی شرکت نظر آتی ہے، یہ اعتماد انسان کے اپنے اندر سے ہی پیدا ہوتا ہے۔

اگر ہانیہ اپنی ہم جماعتوں کے ہاتھوں مذاق کا نشانہ بننے کے باوجود، کلاس میں پڑھائی میں سب سے آگے ہو سکتی ہے تو وہ اسی لیے کہ انسان خود کو پہچان کر ہی کسی ایسے راستے یا طریقے کا انتخاب کرتا اور ان لوگوں کو شکست دے سکتا ہے جو اسے کمتر سمجھتے ہیں۔

کسی کے موٹے، ناٹے، سفید، سانولے یا سیاہ ہونے میں ان کا کوئی کمال نہیں ہے۔ ہاں کمال ہو سکتا ہے محنتی، لائق، ذہین، کوڑھ مغز، کاہل، نالائق، باتونی، غصیلے یا ہنس مکھ ہونے میں۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو آپ اپنے اندر خود پیدا کرتے یا ختم کرسکتے ہیں۔

ایک کوڑھ مغز بھی ذہین بن سکتا ہے اور ایک غصیلا ، ہنس مکھ۔ شکلوں، رنگوں اور قد وقامت میںایسی مین میخ تو ہمارے ہاں وہ عورتیں نکالتی ہیں جنھیں اپنے بچوں کی شادیوں کے لیے وہ جوڑ چاہیے ہوتا ہے جو کہ صرف آرڈر پر بن سکتا ہے ، چاند جیسی بہوئیں، ہیروں جیسے داماد۔

خطبۂ حج الوداع کے موقع پر آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کوعجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر، فضیلت کا معاملہ صرف تقوی، خوف اور پرہیز گاری کی بنیاد پر ہے۔

دوستی تو یوں بھی رنگ، نسل اور ذات پات سے ماورا ہوتی ہے، اس میں اگر آپ لوگوں کو ان کی ظاہری شکل و صورت کے پیمانوں پر جانچ کرانتخاب کرنے لگیں تو آپ بہت جلد اس بھری دنیا میں تنہا رہ جائیں گے۔

چھوٹے چھوٹے بچوں کو تو بڑی آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے کہ دوسروں کی خامیوں یا عیوب کے بجائے ان کی اچھائیوں پر نظر رکھیں اور دوسروں کو اعتماد حاصل کر نے میں ان کی مدد کریں نہ کہ انھیں توڑ دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے بنایا ہے کھیل میں نہیں ہے ہوتا ہے سکتا ہے ہے اور بچی کے اور ان

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا