دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنے حملوں کے ذریعے اسرائیل، نہتے شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ اسلئے عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ تل ابیب پر دباوؑ ڈالے کہ وہ جنگبندی کی پابندی کرے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے اپنے قطری ہم منصب شیخ "محمد بن عبدالله آل ثانی" سے ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطین کے حالات پر اظہار تشویش کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے باوجود صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ و لبنان کو مسلسل نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں کے ذریعے اسرائیل، نہتے شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ تل ابیب پر دباوؑ ڈالے کہ وہ جنگ بندی کی پابندی کرے۔ اس کے علاوہ یمن کی تازہ ترین صورت حال بھی گفتگو کا مرکز رہی۔ اس حوالے سے دونوں وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ یمنی سرزمین کی علاقائی سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔ واضح رہے کہ شیخ محمد بن عبدالله آل ثانی کے پاس قطر کی وزارت خارجہ کے ساتھ ساتھ، وزارت عظمیٰ کا قملدان بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم