شاداب خان کی ٹی20 اسکواڈ میں واپسی، سابق کپتان راشد لطیف بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سری لنکا کے خلاف آئندہ ٹی20 سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کے اعلان کے بعد سابق کپتان راشد لطیف نے شاداب خان کی واپسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے تجربہ کار بولنگ آل راؤنڈر شاداب خان کو ٹیم میں شامل کیا ہے، تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں چند باصلاحیت نوجوان کھلاڑی اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے۔
مزید پڑھیں: شاداب خان کی 6 ماہ بعد واپسی، سری لنکا کے خلاف پاکستان کے 15 رکنی ٹی 20 اسکواڈ کا اعلان
شاداب خان کندھے کی سرجری کے بعد ایک بار پھر ٹی20 ٹیم کا حصہ بنے ہیں اور اس وقت بگ بیش لیگ میں بھی اپنی کارکردگی سے توجہ حاصل کررہے ہیں۔
اسکواڈ میں شاداب خان کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپر بلے باز خواجہ نافع کو پہلی مرتبہ ٹی20 ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس سیریز میں قومی ٹیم کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے۔
شاداب خان کی شمولیت پر ردِعمل دیتے ہوئے سابق کپتان راشد لطیف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے سفیان مقیم اور معاذ صداقت کو کیوں نظر انداز کیا گیا، جبکہ شاداب خان کو براہِ راست اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا۔
Shadab Khan returns as Pakistan name T20I squad for Sri Lanka series but Domestic performers Maaz Sadaqat and Sufyan Muqeem missing.
— Rashid Latif | ???????? (@iRashidLatif68) December 28, 2025
شاداب خان کی واپسی سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں شائقین کرکٹ اور سابق کھلاڑی مختلف آرا کا اظہار کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تین ٹی20 انٹرنیشنل میچز 7، 9 اور 11 جنوری کو کھیلے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بول پڑے ٹی20 اسکواڈ راشد لطیف سابق کپتان شاداب خان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بول پڑے ٹی20 اسکواڈ راشد لطیف سابق کپتان وی نیوز شاداب خان کی سابق کپتان اسکواڈ میں راشد لطیف
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔