پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، بلاول بھٹو WhatsAppFacebookTwitter 0 28 December, 2025 سب نیوز
لاڑکانہ (سب نیوز)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، اپنے لیڈر کی گرفتاری اور کیسز پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
لاڑکانہ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگوکوتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کے لیے صدر آصف علی زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے، لیڈر کی گرفتاری اور کیس پر قومی اداروں پر حملہ کریں گے تو ایکشن پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی بقا کے لیے سیاسی حل نکالنا چاہیے، حالات کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک نقطے پر لانے کیلئے صدر زرداری کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن جلدی نہیں ہو رہے، نئے انتخابات سے پہلے الیکٹرول ریفارم ضروری ہے، ایسے ریفارم لائیں جس پر سب کو اعتماد ہو۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا عام آدمی سے اس کا معاشی حال پوچھنے پر ملک کی اصل معاشی صورتحال کا اندازہ ہوگا، عام آدمی کا جواب اصل ٹیسٹ ہوتا ہے، اس سے پوچھیں کیا اس کی معاشی ترقی ہو رہی ہے؟ وفاقی حکومت معاشی بحران سے نمٹنا چاہتی ہے تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر غور کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپولارڈ کی طوفانی اننگز، ایم آئی ایمریٹس کوالیفائر ون میں پہنچ گئی اسلام آباد میں یکم جنوری سے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہو گی: وزیر داخلہ پنجاب میں ’’سہولت آن دی گو بازار‘‘ عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا پی ٹی آئی کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں: بیرسٹر عقیل ملک الطاف حسین نے عمران فاروق کو مروایا، قائد ’را‘ سے پیسے لے رہا ہے: مصطفیٰ کمال سوات میں موسم سرما کی پہلی برف باری، سیاحوں نے مالم جبہ کا رخ کر لیا بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب پر متنازعہ پن بجلی منصوبے کی منظوریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں کو بلاول بھٹو کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔