بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل جماعت اسلامی اور این سی پی کے درمیان مفاہمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے آئندہ عام انتخابات سے قبل نیشنل سٹیزنز پارٹی (این سی پی) اور دیگر ہم خیال جماعتوں کے ساتھ انتخابی مفاہمت قائم کر لی ہے۔
جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے اتوار کی شام ڈھاکا کے نیشنل پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی 8 جماعتیں اس انتخابی اتحاد میں شامل تھیں، جبکہ اب این سی پی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی)، جس کی قیادت ریٹائرڈ کرنل اولی احمد کر رہے ہیں، بھی اس مفاہمت کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس طرح اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کرپشن اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عزم
انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد اتفاق کیا گیا ہے تاکہ ہر حلقے میں ایک متفقہ امیدوار کو میدان میں اتارا جا سکے۔ مزید یہ کہ دیگر جماعتوں نے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کی دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق جماعتِ اسلامی نے حالیہ عوامی تحریک کے بعد کئی اسلامی اور دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے، جن میں اسلامی اندولن بنگلہ دیش، کھیلَافت مجلس، بنگلہ دیش کھیلَافت مجلس، بنگلہ دیش کھیلَافت اندولن، نظامِ اسلام پارٹی اور جاتیہ گن تانترک پارٹی (جے اے جی پی اے) شامل تھیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیش ڈیولپمنٹ پارٹی بھی اس اتحاد میں شامل ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے
سیاسی مبصرین کے مطابق اس انتخابی مفاہمت کا مقصد ووٹوں کی تقسیم روکنا اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت انتخابات میں حصہ لینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن این سی پی بنگلہ دیش جماعت اسلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن این سی پی بنگلہ دیش جماعت اسلامی اتحاد میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔