ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات ممکن نہیں،خیبرپختونخوا میں آپریشن ناگزیر ہیں،فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد : گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے ، صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا بات کرنے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان حکومت کو بھی یہ پیغام دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اڈیالہ جیل میں قائم اپنا غیر رسمی سیکرٹریٹ فوری طور پر ختم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف این آر او کیوں مانگ رہی ہے، بانی پی ٹی آئی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، اور ایک سزا یافتہ شخص دھرنوں کے ذریعے آزاد نہیں ہو سکتا۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی قیادت نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر کبھی شہدا کے مزاروں پر حملے یا اداروں کے خلاف تشدد کی ترغیب نہیں دی گئی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی پیپلز پارٹی نے جمہوری رویہ اپنایا اور قیادت نے کبھی اداروں پر حملے کی بات نہیں کی۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا حل صرف ریاستی رٹ کے قیام، قانون کی حکمرانی اور سنجیدہ اقدامات سے ہی ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فیصل کریم کنڈی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ