خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ایک گروہ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔

ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کوہاٹ عباس مجید مروت کے مطابق پولیس کو کرک کے سرحدی پہاڑی علاقے، تھانہ خرم کی حدود میں واقع کرکنڈوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیے: مردان میں پولیس آپریشن: ایس پی اعجاز خان شہید، 2 دہشتگرد ہلاک

آر پی او کے مطابق آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 8 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے دہشت گردوں کے کئی پہاڑی ٹھکانوں کو بھی تباہ کردیا، جس سے ان کی نقل و حرکت اور پناہ گاہوں کو بڑا نقصان پہنچا۔

عباس مجید مروت کا کہنا تھا کہ آپریشن میں پولیس کے ایک اہلکار کو معمولی زخم آئے، تاہم مجموعی طور پر کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

پولیس حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا اور دہشت گرد عناصر کا قلع قمع کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

KP Police خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی میں پولیس

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا