اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کی تسلیم عالمی امن اور خطے کے لیے خطرہ ہے، صومالی صدر
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اتوار کو ہنگامی پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا دنیا اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ صومالیہ کے صدر نے اس اقدام کو صومالیہ کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور عوام کی یکجہتی پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب
صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور دہائیوں سے عالمی سطح پر پہچان کے لیے کوشاں ہے۔ یہ خود ساختہ جمہوریہ خلیج عدن میں ایک اسٹریٹجک مقام رکھتی ہے اور اس کے اپنے کرنسی، پاسپورٹ اور فوج موجود ہیں، لیکن عالمی سطح پر سفارتی طور پر الگ تھلگ ہے۔
اسرائیل کے اعلان پر صومالیہ کی حکومت اور افریقی یونین نے سخت احتجاج کیا۔ موغادیشو نے اسے خودمختاری پر جان بوجھ کر حملہ قرار دیا، جبکہ مصر، ترکی، خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک اور سعودی عرب میں قائم اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل صومالی لینڈ صومالیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل صومالی لینڈ صومالیہ صومالی لینڈ کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔