بھارتی آبی جارحیت، خطے کا مستقبل غیر یقینی
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے آخرکار مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج،II پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان کے لیے دفاعی اور اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنے پانیوں پر حق حاصل ہے، مگر بھارت اسے اس حق سے محروم کرے گا۔ دوسری جانب بھارت کے موقر اخبار ’’دی ہندو‘‘ نے 2025کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سال قرار دے دیا اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے وابستہ توقعات، حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔’’ دی ہندو‘‘ نے اعتراف کیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اب تک کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ برصغیر کی تاریخ کا وہ واحد بین الاقوامی آبی معاہدہ ہے جسے اکثر مثال بنا کر پیش کیا جاتا رہا کہ دشمنی، جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی دو ریاستیں پانی جیسے حساس مسئلے پر کسی ضابطے کی پابندی کر سکتی ہیں، مگر بدقسمتی سے گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے اس معاہدے کو عملاً کاغذ کا ایک ٹکڑا بنا کر رکھ دیا ہے۔
دریائے چناب پر دلہستی اسٹیج دوم پن بجلی منصوبے کی منظوری اسی سلسلے کی ایک تازہ اور سنگین کڑی ہے، جو نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال بھی ہے۔ بھارت 3,277.
دریائے چناب، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے میں آنے والے تین مغربی دریاؤں میں شامل ہے۔ اس دریا پر کسی بھی ایسے منصوبے کی تعمیر جو پانی کے بہاؤ، ذخیرے یا اخراج کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو، معاہدے کی روح اور شقوں دونوں کی نفی ہے۔ دلہستی اسٹیج دوم منصوبہ 260 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس کے ڈیزائن، اسٹرکچر اور آپریشنل کنٹرول کے پہلو پاکستان کے لیے شدید خدشات کا باعث ہیں۔
یہ منصوبہ اکیلا نہیں بلکہ ساولکوٹ، رتلے، بسر، پکل دل، کوَر، کیرو اور کرٹھائی جیسے دیگر منصوبوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا جال بنتا جا رہا ہے جس کے ذریعے بھارت دریائے چناب کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے زرعی علاقوں، خاص طور پر پنجاب کے وسیع میدان، مستقبل میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات خوراک، معیشت، سماجی استحکام اور قومی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان بین الاقوامی قوانین، معاہدات اور ریاستی ذمے داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ معاہدہ کسی یکطرفہ فیصلے سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کے فریقین کے علاوہ عالمی بینک بھی اس کا ضامن ہے۔
اس کے باوجود بھارت کا رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کے بل پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان بلکہ بنگلہ دیش، نیپال اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی ایک خطرناک پیغام ہے کہ بھارت مستقبل میں کسی بھی معاہدے کی پاسداری کو ضروری نہیں سمجھے گا اگر وہ اس کے مفادات کے خلاف ہو۔پاکستان کے لیے یہ معاملہ محض سفارتی یا قانونی نہیں بلکہ دفاعی اور اسٹرٹیجک نوعیت کا ہے۔
پانی جدید دور میں جنگ کا ایک نیا محاذ بن چکا ہے، اور بھارت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ دریاؤں پر کنٹرول کا مطلب دشمن کی معیشت، زراعت اور سماجی ڈھانچے کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دلہستی اسٹیج دوم جیسے منصوبے پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر مہلک خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کو نہ صرف عالمی فورمز پر بھرپور آواز اٹھانی ہوگی بلکہ اندرونِ ملک پانی کے بہتر انتظام، متبادل ذرایع اور قومی یکجہتی کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
دوسری جانب بدلتی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر نمایاں ہو رہا ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو میں شایع ہونے والے معروف تھنک ٹینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر کبیر تنجا کے مضمون میں یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی حالات سے مؤثر فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ایک اہم اور بااثر ریاست کے طور پر منوایا ہے۔ امریکا، مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد اب صرف ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ عالمی سلامتی کے منظر نامے میں ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جسے بھارت نہ صرف نظرانداز نہیں کر سکتا بلکہ جس نے نئی دہلی کے پالیسی سازوں کو تشویش میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’’میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ کہنا محض ایک رسمی جملہ نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری قیادت پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ اعتماد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کو دہشت گردی، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
پاکستان کی جانب سے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان خطے میں محض اپنے مفادات نہیں بلکہ مجموعی امن کے لیے بھی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ سفارتی اقدامات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ تعمیری اور مثبت تعلقات قائم کرنے میں سنجیدہ ہے۔اس کے برعکس بھارت کی سفارتی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ خود بھارت کے موقر اخبار دی ہندو نے 2025 کو بھارت کی عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سال قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی سے وابستہ توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ پالیسی ناکام ہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش جیسے قریبی اور تاریخی تعلقات رکھنے والے ملک کے ساتھ تناؤ بھارت کی سفارتی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیپال، سری لنکا اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات میں وہ گرمجوشی نظر نہیں آتی جس کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔مزید یہ کہ پاکستان کے آبی حقوق کا معاملہ صرف ریاستی سطح تک محدود نہیں بلکہ یہ براہِ راست کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی، روزگار اور بقا سے جڑا ہوا ہے۔
دریائے چناب کے پانی پر انحصار کرنے والے کسان، صنعتیں اور شہری آبادی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، غیر متوازن بارشوں اور آبی بدانتظامی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر پن بجلی منصوبوں کی تعمیر اس بحران کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ پانی کی کمی صرف فصلوں کی پیداوار میں کمی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات مہنگائی، غذائی عدم تحفظ، دیہی بے روزگاری اور شہروں کی طرف ہجرت کی صورت میں سامنے آتے ہیں، جو سماجی ڈھانچے کو کمزور کر دیتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت اپنی داخلی سیاست میں قوم پرستی اور سخت گیر بیانیے کو تقویت دینے کے لیے پاکستان مخالف اقدامات کو بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر حملہ بھی اسی سوچ کا تسلسل محسوس ہوتا ہے، جہاں طویل المدتی علاقائی امن کے بجائے قلیل المدتی سیاسی فائدے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ مودی حکومت نے بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کو ہر محاذ پر دباؤ میں رکھ سکتی ہے، مگر بدلتے عالمی حالات نے اس بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔
عالمی طاقتیں اب خطے میں توازن اور استحکام کی خواہاں ہیں، نہ کہ کسی ایک ریاست کی بالادستی۔جنوبی ایشیا کو اس وقت تعاون، اعتماد سازی اور مشترکہ ترقی کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ اور معاشی دباؤ ایسے مسائل ہیں جن کا حل تصادم میں نہیں بلکہ اشتراک میں ہے۔ اگر بھارت واقعی خطے میں قیادت کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے معاہدوں کی پاسداری اور ہمسایہ ممالک کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، دلہستی اسٹیج دوم جیسے منصوبے تاریخ میں محض ایک تکنیکی یا توانائی منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے فیصلے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے خطے میں بداعتمادی اور کشیدگی کو مزید گہرا کیا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دلہستی اسٹیج دوم منصوبہ صرف ایک پن بجلی منصوبہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے مستقبل، امن اور استحکام کا امتحان ہے۔
پاکستان کو اپنے پانیوں پر حق حاصل ہے، اور اس حق سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین، اخلاقی اصولوں اور علاقائی امن کے خلاف ہوگی۔ بھارت اگر واقعی خود کو ایک ذمے دار عالمی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے طاقت کے بجائے معاہدوں، مذاکرات اور اعتماد سازی کا راستہ اپنانا ہوگا۔ بصورت دیگر تاریخ اس رویے کو ایک ایسی غلطی کے طور پر یاد رکھے گی جس نے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM دلہستی اسٹیج دوم سندھ طاس معاہدے پاکستان کے لیے بین الاقوامی دریائے چناب کہ پاکستان پاکستان کو کی جانب سے معاہدے کی اس معاہدے بنگلہ دیش نہیں بلکہ کے طور پر کہ بھارت ممالک کے بھارت کی نے والے کے ساتھ پن بجلی کیا جا رہا ہے اور اس
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘