اتحادی جماعتوں کیساتھ مل کر ملک کو مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں،راجا پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251229-11-12
سکھر(نمائندہ جسارت )سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ اتحادی جماعتوں کیساتھ مل بیٹھ کر ملک کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش رہے ہیں انتشار جمہوریت کی ضد ھے، جہاں انتشار ہوتا ہے وہ ترقی نہیں ہوتی، ملک میں ایسی فضا پیدا کرنی ہے جس سے امن و امان ہو ،گزشتہ روز سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کسی جیل بھیجنے کا میرا کوئی مطالبہ نہیں،احتجاج تو ان کا مین فیکچرنگ فالٹ ہے انہوں نے کہا کہ جیل سے باہر ہوتے ہیں تو بھی احتجاج کرتے ہیں، اندر ہوتے ہیں تب بھی احتجاج کرتے ہیں اڈیالہ کی صورتحال کا حل یہی ہے کہ وہاں اندر صرف بانی قید نہیں دیگر لوگ بھی ہیں،ہمارے صدر نے بھی چودہ سال قید کاٹی ہے ، بینظیر بھٹو بچوں کے ساتھ جیل کے باہر بیٹھی ہوتی تھیں، محترمہ نے کبھی ملک خلاف ریاست خلاف بات نہیں کی ان کا مزید کہنا تھا کہ محترمہ سیاست کا ستارہ تھیں،شہید نے امن کی سیاست کو فروغ دیا،شہید محترمہ ملک میں خوشحالی دیکھنا چاہتی تھیں، شہید محترمہ کی شہادت سے سیاست مین خلا پیدا ہوا جیسے پر کرنا مشکل تھا، ایسے میں زرداری صاحب نے یہ بیڑا اٹھایا، پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،محترمہ کے قاتل اپنے کفیرکردار تک پہنچ چکے ہیں،انہوں نے ایک سوا ل کے جواب میں کہا کہ کیسے پاکستانی ہیں جو باہر بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں، پاکستان کا سوچنا چاہئے یہ کن ہاتھوں میں کھیل رہے ھیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ھم نجکاری کے خلاف نہیں ہے مگر ہم لوگوں کو بھی بیروزگار کرنا نہیں چاہتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔