کم عمر بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات تشویشناک ہیں،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے صوبہ پنجاب میں کم عمر بچوں اور بچیوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران کم عمر بچوں سے زیادتی کے 5761 واقعات رپورٹ ہونا ایک خوفناک اور لرزہ خیز حقیقت ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور حکومتی بے حسی کو واضح کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث ایک ہزار سے زائد مجرمان کا آزاد گھومنا ریاستی نظامِ انصاف پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات کسی ایک علاقے یا شہر تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے صوبے میں یہ ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پولیس کی ناقص تفتیش، مقدمات میں تاخیر اور مجرمان کو سیاسی و بااثر عناصر کی پشت پناہی ایسے جرائم میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین اور ادارے صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، عملی سطح پر ان کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف سزا کافی نہیں، بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا بھی ناگزیر ہے۔ آگاہی مہمات چلائی جائیں، والدین اور بچوں کو تحفظ، رپورٹنگ اور قانونی حقوق سے آگاہ کیا جائے۔ پولیس اور تفتیشی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی جائے تاکہ مجرمان کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ بچوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے زیادتی کے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔