ڈہرکی:خسرہ اور چکن پاکس پھیلنے سے مزید 3 معصوم چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھرکی( نمائندہ جسارت)ڈھرکی سمیت ضلع بھر کے بیشتر علاقوں میں “خسرہ” اور “چکن پاکس” جیسی مہلک اور پھیلنے والی متعدی بیماریوں کی وباء علاقوں بھر میں بری طرح سے پھیل گئی ہے۔ جس کے ایک اور واقع میں مذید”3″ معصوم بچوں کی زندگیوں کے “چراغ” خسرہ کی اس مہلک وباء کا شکار ہو کر ہلاک ہو جانے ساتھ ہی ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد “5” گئی ہے۔ اور مذید 10 سے زائد بچے ان موزی مہلک بیماری کا شکار ہوئے پڑے ہیں۔ غربت اور مہنگائی کے مارے غریب والدین شدید پریشان۔ اور ایگزیکٹو اور ہیلتھ انتظامیہ غائب۔ ان 3 تینوں بچوں کی افسوسناک ہلاکتوں کا واقع ڈھرکی کے نواحی علاقے کھینچو بنگلہ تھانہ کے نزدیکی گاؤں فیض محمد مھر میں خطرناک متعدی بیماری “خسرہ” بری طرح پھیل گئی جس کی زد میں آ کر “دو” روز ہی میں گاؤں کے رہائشی بچے جن میں بسم اللہ مھر ، بچی حضوراں اور عامر علی مھر نامی 3 بچے ہلاک اور 10 سے زائد بچے اس بیماری کے شدید شکار ہیں جن میں سے متعدد بچوں کی بھی حالت انتہائی تشویشناک بتلائی جاتی ہے۔ متاثرہ گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں اس خطرناک بیماری کے تدارک کے لئیے محکمہ اور متعلقہ اداروں کی طرف سے کوئی بھی فوری اور خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں جس کی وجہ سے علاوہ کے مکینوں میں شدید تشویش ناک پریشانی پھیلی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں چند ہفتے قبل بھی اس خطرناک بیماری کے شکار ہو کر “2” معصوم بچوں کی افسوسناک ہلاکتوں کا واقع گاؤں نبی بخش لاکھو میں پیش آیا تھا جس میں ایک ہی گھر کے 2 بچے جو آپس میں بہن اور بھائی ہیں جس میں 6 سالہ عاطف اور 4 سالہ بچی ایمان کے نامی بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ادھر اس تازہ واقع میں متاثرہ علاقے میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ گاؤں کے دیہاتیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اطلاع کے باوجود تا حال ڈسٹرکٹ ایگزیکٹو انتظامیہ اور محکمہ صحت کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں نا پہنچ سکیں۔ جس کی وجہ سے خسرہ اور چکن پاکس جیسی مہلک بیماری سے مذید متاثرہ بچوں کے غریب والدین اور دیگر علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت مہنگے ، مہنگے علاج معالجہ سے دو چار ہو ، ہو کر شدید پریشان ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔