شہرت کے موقع پرست بے نقاب: صبا قمر نے نام استعمال کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ عالمی شہرت یافتہ اداکارہ صبا قمر نے اپنا نام استعمال کر کے سستی شہرت حاصل کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا۔حالیہ دنوں میں صبا قمر کے خلاف پولیس یونیفارم بغیر اجازت پہننے پر مقدمہ درج کرنے کیلئے ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر اداکارہ نے بالآخر اپنا دوٹوک مؤقف سامنے رکھ دیا ہے۔فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر انہوں نے سٹوری شیئر کرتے ہوئے اس خبر کا سکرین شاٹ شیئر کیا۔اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو ارسال کی گئی درخواست بھی شیئر کی، جو 31 ستمبر 2021 کو لاہور آپریشنز کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے نام لکھی گئی تھی، اس درخواست میں ’پاکستان کی امیج کی بہتری کے مقصد سے ڈی جی پی آر پنجاب پروجیکٹ‘ کیلئے پولیس یونیفارم خریدنے اور استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔صبا قمر نے اس پٹیشن کو شہرت کا استعمال کرتے ہوئے ’پبلسٹی‘ کا ذریعہ قرار دیا، اور ناقدین سے کہا کہ ’براہ کرم شہرت کیلئے کسی اور کو ڈھونڈیں‘، ’آج میرے پاس جو کچھ ہے وہ محنت کا نتیجہ ہے۔ناقدین کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’اپنے سفر پر توجہ مرکوز رکھیں، کیونکہ آپ کا وقت آئے گا‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔