اورنگی ٹاؤن میں تبلیغی اجتماع اختتام پزیر ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
نماز فجر کے بعد مولانا ضیا الحق نے بیان کیا اوراور رقت آمیز دعامولانا احمد بٹلہ نے کرائی
اللہ تعالی پاکستان کو شاد وآباد رکھے،ملکی مسائل حل فرمائے، گناہوں کی معافی مانگیں،علماء کرام
تبلیغی جماعت کے تحت سہ روزہ کراچی اجتماع اتوار کو بیان اور رقت آمیز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔اجتماع گاہ شرکا سے آخر بیان و دعا سے قبل ہی بھر چکی تھی ۔شرکا نے اطراف کے مقامات پرکھڑے ہوکر بیان سنا اور دعا میں شرکت کی۔اتوار کو نماز فجر کے بعد مولانا ضیا الحق نے بیان کیا اوراور اختتامی دعامولانا احمد بٹلہ نے کرائی۔علمائے کرام نے بیان اور دعا میں کہا کہ اللہ تعالی مملکت پاکستان کو شاد وآباد رکھے۔ ملک کے مسائل کو حل فرمائے۔انہوں نے کہا کہ معاشی وتمام پریشانیوں کا حل دین اسلام نے دیا یے۔اس پر عمل کریں۔موت سے قبل اس کی تیاری کریں۔اسلام امن کا درس دیتا یے۔نمازوں کا اہتمام کریں۔اپنی زندگی کو دین کے مطابق گزاریں۔گناہوں کی معافی مانگیں۔تمام لوگوں کے حقوق کا خیال کریں۔تبلیغ کی دعوت دیں۔اپنی زندگی سادگی سے گزاریں۔فضول اخراجات اور کاموں سے بچیں۔ نوجوان نسل دین کو سیکھے ۔آخرت کی تیاری کریں۔اللہ ہم سب کی مشکلات کو حل فرمائے۔تمام بیماروں کو صحت دے ۔آمین ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں اور اپنی اولاد کو بھی اس عمل کو سیکھائیں۔رب ہماری تمام دعائوں کو قبول فرمائے۔دین کے ساتھ جوڑنے کی توفیق دے۔آمین ۔اجتماع میں تمام سہولیات کی فراہمی کے ساتھ سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔