بلاول بھٹو زرداری کا بیان پی ٹی آئی کے لیے پیشکش ہے: سید نیر حسین بخاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان پی ٹی آئی کے لیے ایک پیشکش کے طور پر لیا جانا چاہیے۔
نیر حسین بخاری نے بتایا کہ وزیرِاعظم کی جانب سے بھی مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ یہ کہتے ہیں کہ وہ اسٹریٹ پاور دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاست کرے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوگا۔ نیر بخاری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، کیونکہ تناؤ کی صورت حال میں ملک اور قوم کو نقصان پہنچتا ہے، اور پیپلز پارٹی کی تاریخ ہمیشہ مسائل کے حل اور بہتری کی تاریخ رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو شدت پسندی کی سیاست ترک کر دینی چاہیے، کیونکہ یہ ملکی سیاست پر مثبت اثر ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے انتہا پسندی کی سیاست اختیار کی تو اس کے جواب میں سختی پر شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پی ٹی ا ئی کی سیاست
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔