کرن راؤ آج بھی عامر خان کی اہلیہ ہیں؟ نئی تصاویر نے سوالات کھڑے کردیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کی سابق اہلیہ اور ہدایت کار کرن راؤ اسپتال میں زیر علاج ہیں، جہاں انہوں نے اپینڈکس کی سرجری کے بعد اپنی تصاویر جاری کی ہیں۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ ’انسٹاگرام‘ پر کرن راؤ نے ممبئی کے سر ایچ این ریلائنس فاؤنڈیشن اسپتال سے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے مداحوں کو اپنی صحت سے متعلق اپ ڈیٹس فراہم کیں اور ساتھ ہی تصاویر بھی شیئر کیں۔
اپنی پوسٹ میں کرن راؤ نے اسپتال کی ایک مختصر ویڈیو شیئر کیں اور ساتھ ہی چند تصاویر جس میں انہوں نے اسپتال کی جانب سے مریض کو پہنائے جانے والے بینڈ (جس پر مریض کا نام درج ہوتا ہے) بھی شیئر کیا اور ساتھ اپنی ایک سیلفی بھی شیئر کی۔
حیران کن طور پر ایک تصویر میں کرن راؤ کے نام کے ساتھ آج بھی عامر خان کا نام جڑا ہوا ہے اور انہوں نے اسپتال میں اپنا پورا نام ’کرن عامر راؤ خان‘ لکھوایا ہے جس سے صارفین کے ذہن میں سوالات کھڑے ہوگئے ہیں کہ آیا ان کی اب تک طلاق نہیں ہوئی یا کوئی اور معاملہ ہے۔
View this post on Instagram52 سالہ کرن راؤ نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ وہ 2026 کی پارٹی کی تیاریوں میں مصروف تھیں لیکن انہیں پینڈکس کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونا پڑا اور وہ ساری تیاریاں ادھوری رہ گئیں۔
انہوں نے سرجری کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم، اسپتال کے عملے، اپنے دوستوں اور اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’کچھ ملنے والے ان کے ہونٹوں کا مذاق اڑانے آئے تھے جو الرجی کی وجہ سے سوج گئے تھے مگر اب بہتر ہوگئے ہیں۔
بالی ووڈ ہدایت کار نے اپنی پوسٹ میں تصدیق کی کہ انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور وہ اب گھر واپس آچکی ہیں۔
واضح رہے کہ کرن راؤ نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’لگان‘ میں معاونت سے کیا تھا اور بعد ازاں ’دھوبی گھاٹ‘ کی ہدایت کاری کی اور حال ہی میں ان کی ریلیز ہونے والی فلم ’لاپتا لیڈیز‘ نے نہ صرف بھارت میں متعدد ایوارڈز حاصل کیے بلکہ فلم کو 2024 میں بھارت کی جانب سے آسکرز کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔
عامر خان اور ہدایت کارہ کرن راؤ نے 16 سال بعد 3 جولائی 2021 کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے طلاق کا اعلان کیا تھا اور ساتھ یہ کہا تھا کہ یہ فیصلہ باہمی اتفاق سے ہوا، جس کے بعد وہ اپنے بیٹے آزاد راؤ خان کی مشترکہ پرورش کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیساتھ ٹی20 سیریز کیلیے اسکواڈ کا اعلان اہم کھلاڑی کی واپسی Dec 28 2025 09 20 AM انہوں نے اور ساتھ شیئر کی
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ