سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب پر ناروا سلوک کا شکوہ، خواجہ آصف نے جواب دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے دورہ پنجاب میں ناروا سلوک کے شکوؤں پر جواب دے دیا۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ سہیل آفریدی صاحب! آپ کی قیادت میں وفاقی دارالحکومت پر حملہ ہوتا ہے اور بار بار ہوتا ہے۔
سہیل آفریدی صاحب جب آپکی قیادت میں وفاقی دارالحکومت پہ حملہ ھوتا ھے اور بار بار ھوتا ھے۔ جب آپکی پارٹی کی قیادت بشمول آپکے پاکستان کی وحدت پہ حملہ کرتے ھیں آپکے ورکر آپکی قیادت کی آشیر باد سے انتہائ گندی زبان سوشل میڈیا پہ استعمال کرتے ھیں۔ اسوقت بھی آئینی عہدوں اور بین الصوبائ… pic.
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) December 29, 2025
’جب آپ کی پارٹی کی قیادت بشمول آپ کے پاکستان کی وحدت پر حملہ کرتے ہیں، آپ کے کارکنان آپ کی قیادت کی آشیر باد سے انتہائی گندی زبان سوشل میڈیا پر استعمال کرتے ہیں، اس وقت بھی آئینی عہدوں اور بین الصوبائی عزت خراب ہو رہی ھوتی ہے۔‘
انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئیں سب مل کر اس کی مذمت اور سدباب کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دورہ پنجاب کے بعد حکومت کی جانب سے ناروا سلوک کا شکوہ کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews خواجہ آصف سہیل آفریدی شکوؤں پر جواب وزیر دفاع وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف سہیل ا فریدی شکوؤں پر جواب وزیر دفاع وی نیوز سہیل ا فریدی کی قیادت
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔