2025 بھی ختم:کراچی میں وفاق اور سندھ حکومت کا کوئی بھی میگا منصوبہ مکمل نہ ہوسکا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251230-08-23
کراچی (اسٹاف رپورٹر )سال 2025ء بھی اختتام کے قریب ہے لیکن کراچی میں گزشتہ کئی سال کی طرح وفاقی و صوبائی حکومت کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والا کوئی میگا منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے۔یاد رہے کہ ان میں ایسے بھی منصوبے شامل ہیں جو 8 سال قبل شروع کئے گئے اور ادھورے ہیں، کچھ منصوبے آدھے مکمل کئے گئے، کچھ منصوبوں پر جزوی تعمیراتی کام ہوا لیکن پھر انہیں بند کردیا گیا اور کچھ منصوبوں پر ترقیاتی کام جاری ہیں لیکن ان کے دیگر کمپوننٹ پر کوئی کام شروع نہ ہونے کے سبب ان کی افادیت عوام تک نہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔شہر قائد میں پانی کا بحران کئی برس سے جاری ہے، 3 کروڑ آبادی والے شہر میں دو سورسز دریائے سندھ اور حب ڈیم سے 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ضرورت2000 ملین گیلن سے زایدروزانہ ہے، شارٹ فال 550 ملین گیلن ڈیلی ہے۔پانی کے اس بحران پر قابو پانے کیلئے 2 میگا منصوبے 2016 میں شروع کئے گئے جو ابھی تک مکمل نہیں کئے جا سکے اور ایک میگا منصوبہ 2024 میں شروع کیا گیا جو اگرچہ مکمل کر لیا گیا لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام تک اس کی افادیت نہیں پہنچ سکی ہے۔260 ملین گیلن ڈیلی پانی کی فراہمی کا اضافی منصوبہ کے فور 2016 میں سندھ حکومت اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی زیر نگرانی شروع ہوا، اسے دو سال میں مکمل ہونا تھا لیکن ناقص پلاننگ کی وجہ سے 2018 میں ترقیاتی کام بند کر دیا گیا ہے۔بعد ازاں وفاقی حکومت نے یہ منصوبہ واپڈا کو سونپ دیا، واپڈا نے 2022 میںKIV کی ری ڈیزائننگ کر کے دوبارہ ترقیاتی کام شروع کیا اور اسے دسمبر 2025 میں مکمل کیا جانا ہے تاہم فنڈز کی کمی کی وجہ سے ابھی اس کا 65 فیصد کام ہو سکا ہے۔کے فور پروجیکٹ کے 3 مزید کمپوننٹ ہیں جنہیں سندھ حکومت نے تعمیر کرنا ہے، ان میں دو پر کام شروع ہوگیا اور ایک کمپوننٹ پر تاحال کام شروع نہیں ہوا ہے، ان تینوں کمپوننٹ کی تکمیل کی مدت 2027 رکھی گئی ہے، فراہمی آب کا دوسرا منصوبہ 65 ملین گیلن ڈیلی کا ہے جو سندھ حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے 7 سال سے بند پڑا ہے، اس پر صرف 15 فیصد کام کیا جاسکا ہے۔واٹر کارپوریشن کے ایک آفیسر نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اصل ایشو یہ نہیں کہ ترقیاتی کام مکمل کئے بغیر منصوبے کا افتتاح کر دیا گیا بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ حب ڈیم سے ملنے والا 100 ملین گیلن ڈیلی پورا نہیں پہنچ پا رہا ہے اور صرف 70 ملین گیلن ڈیلی مل رہا ہے۔متعلقہ آفیسر کے مطابق واٹر کارپوریشن نے اپنے حدود کی 22 کلومیٹر نئی کینال کی تعمیر کا کام تقریباً مکمل کر دیا ہے لیکن واپڈا کی حدود میں آنیوالی 8 کلومیٹر کینال خستہ حالی کا شکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ترقیاتی کام سندھ حکومت کی وجہ سے کام شروع
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔