صومالی لینڈ کا تنازع سنگین عالمی بحران میں بدل گیا، آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ہارن آف افریقہ میں واقع صومالی لینڈ کا دیرینہ تنازع اس وقت ایک بڑے بین الاقوامی بحران کی صورت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے 26 دسمبر 2025 کو صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
اس اقدام پر پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی، عرب اور افریقی ممالک نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عالمی امن اور خطے کے لیے خطرہ ہے، صومالی صدر
ایک خطہ، دو حقیقتیںصومالی لینڈ 1991 سے عملی طور پر ایک الگ انتظامی اکائی کے طور پر موجود ہے، جہاں اپنی حکومت، آئین اور سیکیورٹی نظام قائم ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے اب بھی وفاقی جمہوریہ صومالیہ کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، اور صومالیہ کی حکومت بھی صومالی لینڈ کو اپنے وفاق کا حصہ ہی کہتی ہے۔
عالمی برادری طویل عرصے سے اس معاملے میں یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ کسی بھی یکطرفہ علیحدگی کو تسلیم کرنا افریقہ میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔
اسرائیلی اقدام: خطے میں نئی کشیدگیاسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے بعد نہ صرف صومالیہ کی وفاقی حکومت نے سخت احتجاج کیا بلکہ افریقی یونین اور عرب لیگ نے بھی اس فیصلے کو علاقائی امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ قدم بحیرہ احمر، باب المندب اور ہارن آف افریقہ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان اور او آئی سی کا مشترکہ مؤقفاس تناظر میں پاکستانی وزارتِ خارجہ (ترجمان) کی جانب سے 28 دسمبر 2025 کو ایک اہم مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس پر پاکستان سمیت اردن، مصر، الجزائر، ایران، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، صومالیہ، یمن اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے دستخط شامل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے ایک حصے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ اقدام ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
’یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو لازم قرار دیتا ہے۔‘
اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی ریاست کے حصے کو تسلیم کرنا ایک خطرناک نظیر ہے جو عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس اقدام کو فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی جیسے کسی بھی منصوبے سے جوڑنے کی ہر کوشش کو اصولی طور پر مسترد کیا گیا۔
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اس معاملے کو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی قانونی اور اخلاقی مسئلہ سمجھتا ہے۔
’عالمی ردِعمل اسرائیل کے خلاف ہے‘اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام پر امریکا اور یورپی یونین نے بنیادی طور پر وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی مبصرین عمومی طور پر اسے ایک خطرناک مثال قرار دے رہے ہیں جو خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے، جس میں صومالی لینڈ کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ وہ اس وقت اس پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی جانتا ہے کہ صومالی لینڈ اصل میں کیا ہے، اور ایک اسٹریٹجک بندرگاہ تک رسائی کی تجویز کو ایک بڑا معاملہ قرار دیا، تاہم رپورٹس کے مطابق وہ فی الحال صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یورپی یونین نے بھی صومالیہ کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے صومالی لینڈ اور صومالیہ کی وفاقی حکومت کے درمیان بامقصد مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
یورپی یونین کے ترجمان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بات چیت دیرینہ اختلافات کے حل کے لیے ضروری ہے اور یہ پورے ہارن آف افریقہ کے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
افریقی یونین کے چیئرپرسن کا اسرائیل کے اقدام پر تشویش کا اظہارافریقی یونین کے چیئرپرسن نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ آزادی کے وقت سے وراثت میں ملنے والی سرحدوں کی ناقابلِ تغیر حیثیت کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے ’صومالی لینڈ‘ کا تسلیم کیا جانا خطے کے لیے خطرناک ہے، اسلامی ممالک کی مذمت
ترکیہ نے اسرائیلی فیصلے کو نیتن یاہو حکومت کی غیر قانونی کارروائیوں کی ایک اور مثال قرار دیا جن کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور اسے صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہا۔
سعودی عرب نے اسے یکطرفہ علیحدگی پسند اقدامات قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ قطر نے اس اقدام کو ایک خطرناک نظیر اور یکطرفہ کارروائی قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل امریکی صدر دیرینہ تنازع ڈونلڈ ٹرمپ صومالی لینڈ صومالیہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صومالی لینڈ صومالیہ وی نیوز اسرائیل کی جانب سے صومالی صومالی لینڈ کو تسلیم بین الاقوامی قانون علاقائی سالمیت ہارن آف افریقہ کو تسلیم کرنا صومالیہ کی صومالیہ کے خلاف ورزی کے مطابق قرار دیا کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔