ہارن آف افریقہ میں واقع صومالی لینڈ کا دیرینہ تنازع اس وقت ایک بڑے بین الاقوامی بحران کی صورت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے 26 دسمبر 2025 کو صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

اس اقدام پر پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی، عرب اور افریقی ممالک نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا عالمی امن اور خطے کے لیے خطرہ ہے، صومالی صدر

ایک خطہ، دو حقیقتیں

صومالی لینڈ 1991 سے عملی طور پر ایک الگ انتظامی اکائی کے طور پر موجود ہے، جہاں اپنی حکومت، آئین اور سیکیورٹی نظام قائم ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے اب بھی وفاقی جمہوریہ صومالیہ کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، اور صومالیہ کی حکومت بھی صومالی لینڈ کو اپنے وفاق کا حصہ ہی کہتی ہے۔

عالمی برادری طویل عرصے سے اس معاملے میں یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ کسی بھی یکطرفہ علیحدگی کو تسلیم کرنا افریقہ میں عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔

اسرائیلی اقدام: خطے میں نئی کشیدگی

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے کے بعد نہ صرف صومالیہ کی وفاقی حکومت نے سخت احتجاج کیا بلکہ افریقی یونین اور عرب لیگ نے بھی اس فیصلے کو علاقائی امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم بحیرہ احمر، باب المندب اور ہارن آف افریقہ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان اور او آئی سی کا مشترکہ مؤقف

اس تناظر میں پاکستانی وزارتِ خارجہ (ترجمان) کی جانب سے 28 دسمبر 2025 کو ایک اہم مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس پر پاکستان سمیت اردن، مصر، الجزائر، ایران، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، صومالیہ، یمن اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے دستخط شامل ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے ایک حصے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ یہ اقدام ہارن آف افریقہ اور بحیرۂ احمر میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

’یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو لازم قرار دیتا ہے۔‘

اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی ریاست کے حصے کو تسلیم کرنا ایک خطرناک نظیر ہے جو عالمی امن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس اقدام کو فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی جیسے کسی بھی منصوبے سے جوڑنے کی ہر کوشش کو اصولی طور پر مسترد کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان اس معاملے کو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی قانونی اور اخلاقی مسئلہ سمجھتا ہے۔

’عالمی ردِعمل اسرائیل کے خلاف ہے‘

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام پر امریکا اور یورپی یونین نے بنیادی طور پر وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی مبصرین عمومی طور پر اسے ایک خطرناک مثال قرار دے رہے ہیں جو خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔

امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرتا ہے، جس میں صومالی لینڈ کا علاقہ بھی شامل ہے۔ اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ وہ اس وقت اس پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی دنیا میں کوئی جانتا ہے کہ صومالی لینڈ اصل میں کیا ہے، اور ایک اسٹریٹجک بندرگاہ تک رسائی کی تجویز کو ایک بڑا معاملہ قرار دیا، تاہم رپورٹس کے مطابق وہ فی الحال صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یورپی یونین نے بھی صومالیہ کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے صومالی لینڈ اور صومالیہ کی وفاقی حکومت کے درمیان بامقصد مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

یورپی یونین کے ترجمان کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بات چیت دیرینہ اختلافات کے حل کے لیے ضروری ہے اور یہ پورے ہارن آف افریقہ کے خطے میں امن اور استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

افریقی یونین کے چیئرپرسن کا اسرائیل کے اقدام پر تشویش کا اظہار

افریقی یونین کے چیئرپرسن نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ آزادی کے وقت سے وراثت میں ملنے والی سرحدوں کی ناقابلِ تغیر حیثیت کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے ’صومالی لینڈ‘ کا تسلیم کیا جانا خطے کے لیے خطرناک ہے، اسلامی ممالک کی مذمت

ترکیہ نے اسرائیلی فیصلے کو نیتن یاہو حکومت کی غیر قانونی کارروائیوں کی ایک اور مثال قرار دیا جن کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور اسے صومالیہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کہا۔

سعودی عرب نے اسے یکطرفہ علیحدگی پسند اقدامات قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ قطر نے اس اقدام کو ایک خطرناک نظیر اور یکطرفہ کارروائی قرار دیا جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل امریکی صدر دیرینہ تنازع ڈونلڈ ٹرمپ صومالی لینڈ صومالیہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صومالی لینڈ صومالیہ وی نیوز اسرائیل کی جانب سے صومالی صومالی لینڈ کو تسلیم بین الاقوامی قانون علاقائی سالمیت ہارن آف افریقہ کو تسلیم کرنا صومالیہ کی صومالیہ کے خلاف ورزی کے مطابق قرار دیا کے لیے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار