سہیل آفریدی لاہور کیا کرنے گئے تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل آفریدی کا دورہ لاہور تمام ہوا، سوال مگر یہ ہے کہ اس دورے کا مقصد کیا تھا؟
ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ کا آئینی حق ہے، وہ ملک میں جہاں چاہے جائے۔ یہ دلیل درست نہیں ہے۔ یہ خلط مبحث ہے۔
بات اگر صرف سہیل آفریدی صاحب کی ہوتی جو اپنے خرچے پر لاہور دیکھنے گئے ہوتے تو کہا جا سکتا تھا یہ ان کا حق ہے۔ وہ چڑیا گھر کی سیر کریں یا لاہور کی روشنیاں دیکھیں اور لطف اندوز ہوں۔ لیکن جب یہی سہیل آفریدی صوبے کے وزیر اعلیٰ کے طور پر، اپنے صوبے کے معاملات چھوڑ کر، سرکاری خرچے پر، پروٹوکول اور سکواڈ کے سائے میں، وزرا کو ساتھ لے کر، ایک قافلے کی شکل میں لاہور کی طرف چل پڑیں تو اس سفرِ عشق کو وزیر اعلیٰ کا حق قرار دے کر بات گھما دینا ممکن نہیں رہتا۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا مقصد کیا تھا؟
حکمران کا کام سرکاری خرچ پر اپنے حقوق سے لطف اندوز ہونا نہیں۔ حکمرانی حقوق اور فرائض کے درمیان ایک ایسے تناسب کا نام ہے جس میں فرائض کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نہ ہوا درویش کا تصرف ہو گیا، بغیر کسی کام کے، بغیر کسی مقصد کے سرکاری وسائل کو چولہے میں جھونکتے ہوئے لاہور جا پہنچا۔
وزرائے اعلیٰ پہلے بھی اپنے صوبے سے دوسرے صوبے میں جاتے ہیں لیکن عزت کے ساتھ۔ کسی ضابطے کے تحت۔ میزبان حکومت کو اطلاع دے کر۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سرکاری پروٹوکول کے ساتھ وزیر اعلیٰ صاحب لاؤ لشکر لے کر دوسرے صوبے کو روانہ ہو جائیں جیسے 4 براعظموں کا سلطان اب پانچویں بر اعظم پر یلغار کرنے نکلا ہو۔
سفر کے آغاز میں، بانکے میاں کے ترجمان نے بتایا کہ وہ محسن نقوی کرنے لاہور جا رہے ہیں۔ انداز گفتگو دیکھیے، یہ وہ لوگ ہیں جو اس صدی کے آخری باشعور گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آگے سے کوئی پوچھ لیتا کہ باقی کے وزرا کیا کے پی میں عمران خان کرنے چھوڑ آئے ہو تو پھر یہ دہائی دیتے کہ ہماری میزبانی کے تقاضے درست طریقے سے پورے نہیں فرمائے گئے۔
معزز مہمانان جس انداز سے لاہور پنجاب اسمبلی تشریف لے گئے اور جس رویے کا مظاہرہ کیا، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا یہ رویہ کسی سیاست دان کو زیبا ہے۔ ایک صحافی کے غلط سوال پر ان کے وزیر محترم نے جو زبان استعمال کی، اور پھر بعد میں ان کے وابستگان نے جس طرح اس حرکت کا دفاع کیا اور لسانیت اور قومیت کا کارڈ استعمال کیا، وہ بتا رہا ہے کہ تحریک انصاف ایک سیاسی نہیں، سماجی، اخلاقی اور تہذیبی المیہ بنتی جا رہی ہے۔
ایسا کب ہوا کہ ایک وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جائے اور وہاں کی انتطامیہ کو بتائے بغیر اور اعتماد میں لیے بغیر اعلان کر دے کہ اتنے بجے میں فلاں مارکیٹ جا کر کافی پیوں گا۔ سیکیورٹی کی حالت ہمارے سامنے ہے۔ اعلان کر کے ایک جگہ جانا کیا سیکیورٹی کے تقاضوں کی پامالی نہیں؟ وہاں کچھ ہو جائے تو ذمہ دار کون ہو؟
معلوم یہ ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے، سرکاری حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب سے اپنی اس اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کرنا چاہا جس کا وہ بار بار اعلان کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا، قانون کے دائرے میں رہ کر مکمل حق ہوتا ہے لیکن کیا ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ دوسرے صوبے میں جا کر اس طرح کی احتجاجی سرگرمی کا حصہ بن سکتا ہے؟
احتجاج کرنا ہے تو اس کے لیے پنجاب میں تحریک انصاف موجود ہے۔ اسٹریٹ موومنٹ کی شروعات کے لیے ماحول بنانے کے لیے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کی دوسرے صوبے پر یلغار کہاں پارلیمانی روایت ہے؟
تو کیا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم احتجاج کے قابل صرف اس وقت ہوتے ہیں جب ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر ہوتے ہیں یا جب عدلیہ میں ہمیں گڈ ٹو سی یو کہنے والے موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی تو پھر ہم اسٹریٹ موومنٹ کا ماحول بنانے کے لیے دوسرے صوبے سے وزیر اعلیٰ بلا بھیجتے ہیں کیونکہ اسے گرفتاری کا ڈر نہیں ہوتا۔
وزیر اعلیٰ صاحب نے قوم کی یہ رہنمائی تو فرمائی کہ اگرچہ لاہور میں بہت ڈیولپمنٹ ہوئی لیکن سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ قومیں کیسے بنتی ہیں؟ روز تماشا لگانے سے؟
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاہور میں ترقی ہوئی ہے تو قوم کے پیسوں سے ہوئی ہے کون سا حکوت نے اپنی جیب سے پیسے لگائے ہیں لیکن وہ یہ نہ بتا سکے کہ پشاور سے لاہور تک عشق عمران کا یہ سفر کس کے پیسے سے ہوا ہے؟ یہ سرکاری پروٹوکول، یہ دندناتی گاڑیاں سب کچھ یہ کس کا پیسہ تھا؟
کارکردگی کا سوال ہوا تو صاحب نے مسکرا کر فرمایا ہمارے لوگ ہم سے کارکردگی کا نہیں صرف عمران خان کا سوال پوچھتے ہیں۔ یہ جواب بتا رہا ہے کہ ان کی فکری استعداد کس حد تک پست ہے۔ انہیں سیاست اور معاشرت کے بنیادی تقاضوں کا ہی علم نہیں۔ انہیں دیکھ کر آدمی سوچتا ہے جس موروثی سیاست کو ہم عشروں بُرا سمجھتے رہے وہ مورثی سیاست ہی غنیمت تھی۔ کم از کم ایسا اخلاقی زوال تو نہیں تھا۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ صرف تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ نہیں، پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے لوگ ان سے کارکردگی کا سوال نہ ہوچھتے ہوں وہ صرف عمران خان کا سوال ہی پوچھتے ہوں لیکن باقی کے عوام؟ ان کا کیا بنے گا؟ کیا صوبے کے انتظامی سربراہ کو صرف ایک گروہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے یا حکومت میں آنے کے بعد پورا صوبہ اس کی ذمہ داری بن جاتا ہے؟
پوسٹ ٹروتھ کے ابلاغیے اب دہائی دے رہے ہیں کہ لاہور والے اچھے میزبان ثابت نہیں ہوئے۔ ان ابلاغیوں کو معلوم ہونا چاہیے مہمان بننے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے وزیر اعلی تحریک انصاف سہیل آفریدی ہوتے ہیں ہوتا ہے کے ساتھ صوبے کے کا سوال کے لیے ہیں ہو
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔