سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی سزا چیلنج، اپیل عدالت میں دائر
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے ملٹری کورٹ کی سزا کے خلاف باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی گئی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے تصدیق کی ہے کہ فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کے خلاف 27 دسمبر کو اپیل دائر کی گئی، تاہم اپیل کے مندرجات اور تفصیلات سے متعلق انہوں نے فی الحال کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔ قانونی حلقوں کے مطابق اپیل دائر کیے جانے کے بعد اب اس مقدمے کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فیڈرل کورٹ مارشل نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور پاکستان آرمی ایکٹ کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کے الزامات ثابت ہونے پر 14 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ یہ فیصلہ ایک طویل انکوائری اور عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آیا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 11 دسمبر کو ایک پریس کانفرنس میں اس کیس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 12 اگست 2024 کو فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جو تقریباً 15 ماہ تک جاری رہیں، جس کے بعد ملٹری کورٹ نے سزا سنائی۔
پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعہ 133 بی کے تحت سزا اور فیصلہ سنائے جانے کے بعد ملزم کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے 40 دن کی قانونی مہلت حاصل ہوتی ہے، جس کے تحت فیض حمید نے مقررہ مدت کے اندر اپیل دائر کی۔
قانونی طریقہ کار کے مطابق فوجی عدالت کی سزا کے خلاف دائر اپیل کا جائزہ آرمی چیف کی جانب سے قائم کردہ کورٹ آف اپیلز لے گی۔ اس جائزے کے بعد آرمی چیف کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپیل منظور کریں، مسترد کریں، سزا معطل کریں یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کے احکامات جاری کریں۔
ذرائع کے مطابق اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا قانون کے تقاضوں کے خلاف اور غلط بنیادوں پر دی گئی، جبکہ پراسیکیوشن بھی اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اپیل میں شفاف ٹرائل کے حق کو نظر انداز کیے جانے کا بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے، جس پر اب متعلقہ فورمز پر سماعت متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل لیفٹیننٹ جنرل ڈی جی آئی ایس اپیل دائر فیض حمید کے خلاف کے بعد کی سزا
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :