دوسرے صوبوں سے آئے وفود کی استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے‘ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
لاہور + پشاور+سرگودھا (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی+نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے صوبائی اجلاس سے خطاب میں تمام سرکاری افسران کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہدایات جاری کر دیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیگر صوبوں سے آئے سرکاری وفود کی روایات استطاعت سے بڑھ کر خدمت کی جائے۔ خیبر پی کے میں کسی کو اجنبیت محسوس نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ فنڈز کی عدم ادائیگی کے باعث اضلاع میں میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ صوبے کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔ وزارت خزانہ نے من گھڑت پراپیگنڈے سے فنڈز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوشش کیں۔ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو دیئے گئے فنڈز کی تفصیل بھی سامنے لائے۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پی کے اور دیگر صوبوں کے بقایا جات کا موازنہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیراعلیٰ کی بقایا جات سے متعلق محکموں کو خطوط لکھنے اور تحریری جواب مانگنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگلے اجلاس میں بقایا جات سے متعلق محکمے صوبائی کابینہ کو بریفنگ دیں۔ وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہیلتھ اور ایجوکیشن صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان تحریک انصاف غلط ہو وہاں اخلاقی حدود میں رہ کر اس پر تنقید کریں۔ گزشتہ روز لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی طرح مسلم لیگ ن اور دوسری سیاسی جماعتوں پر بھی تہذیب کے دائرے میں رہ کر تنقید ہونی چاہیے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف جو کچھ کر رہی ہے اس پر سب کو آواز اٹھانی چاہیے، لوگ حق اور سچ کا ساتھ دیں۔دریں اثناءسرگودھا سے نمائندہ خصوصی کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی کی سرگودھا آمد پر فضا پی ٹی آئی کارکنان کے نعروں سے گونج اٹھی، جنہوں نے جگہ جگہ استقبال کرتے ہوئے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ سہیل آفریدی نے نعیم پنجوتھہ اور دیگر پارٹی رہنماو ں کے ہمراہ سرگودھا آمد پر شاداب ٹاو ن میں جیل بند پی ٹی آئی کارکنوں سلیم رضا اور جنید جہانگیر کے حوصلہ اور جرات کو داد دیتے ہوئے ان کے اہلخانہ سے ملاقات میں ان سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے خیبر پی کے نے کہا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔