سوات: چکدرہ انٹر چینج کے قریب مسافر وین کو حادثہ، 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
بٹ خیلہ (نامہ نگار) سوات موٹروے پل چوکی ٹول پلازہ کے قریب مسافر فلائنگ کوچ حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر جاں بحق جبکہ 13 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق ڈرائیور کی غفلت کی وجہ سے گاڑی بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے چلی گئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ملاکنڈ کی میڈیکل ٹیموں کے ساتھ ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیم، ڈیزاسٹر وہیکل اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جہاں ریسکیو اہلکاروں نے پیشہ ورانہ انداز میں کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے تمام زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے ڈی ایچ کیو اسپتال بٹ خیلہ منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کی ہدایات پر 5 شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے سوات ریفر کر دیا گیا۔
حادثہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔