جماعت اسلامی ایک کروڑ خواتین تک قرآن کا پیغام پہنچانا چاہتی ہے، ڈاکٹر حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ دین کی دعوت کا پھیلاؤ معاشرے کی اصلاح کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہے ۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کے تحت منعقدہ دو روزہ ماسٹر ٹرینر ورکشاپ برائے مدرسات کے آخری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خواتین میں دعوتِ دین کو وسعت دے کر ایک کروڑ خواتین تک قرآن کا پیغام پہنچانا چاہتی ہے اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے رمضان المبارک میں دورۂ قرآن نہایت طاقتور اور نتیجہ خیز ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ مدرسات کا اندازِ تدریس محض معلوماتی نہیں بلکہ ایسا ہونا چاہیے جو دلوں کو مسخر کرے، روح کو بیدار کرے اور قرآن سے گہری محبت کو اجاگر کرے۔ روایتی طرز سے آگے بڑھ کر جدید اور مؤثر اسالیب اپنائے جائیں تاکہ دورۂ قرآن محض ایک معمول نہ رہے بلکہ ایک فکری و روحانی انقلاب کا ذریعہ بنے۔ روزانہ ایک پارے کی خوش الحانی سے تلاوت بستیوں میں خیر، برکت اور ہدایت کے دروازے کھول دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک ایمان کی تجدید اور دلوں کی آبیاری کا مہینہ ہے۔ اس دوران انسان کا دل سننے، سمجھنے اور بدلنے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتا ہے اور معاشرے میں نیکی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر بستی اور ہر محلے میں دورۂ قرآن کی محافل منعقد کی جائیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق کا کہنا تھا کہ قرآن ایک زندہ اور ہمہ گیر کتاب ہے جو ہر دور کے مسائل کا قابلِ عمل حل پیش کرتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو اسلام کے آفاقی نظام کی برکات سے آگاہ کیا جائے۔
اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹیرز عائشہ سید، عطیہ نثار ،سمیحہ راحیل قاضی ،انیلہ محمود ،ثمینہ سعید، شازیہ عبداللہ اور میزبان پروگرام ناظمہ خیبر پختو نخوا وسطی حسینہ کاشف بھی موجود تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حمیرا طارق جماعت اسلامی
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔