ایف بی آر کی گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے گلگت بلتستان میں درآمدات پر ٹیکس استثنیٰ کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔
ایف بی آر کے اعلامیہ کے مطابق ٹیکس استثنیٰ کا غلط استعمال روکنے کے لیے جامع نظام وضع کیا گیا ہے، اس انتظام کے تحت کاروباری برادری کے مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔
اعلامیہ کے مطابق گلگت بلتستان کو ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 گلگت بلتستان میں لاگو نہیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 بھی گلگت بلتستان میں لاگو نہیں کیا گیا، سوست ڈرائی پورٹ پر ان اشیاء پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا جو جی بی میں استعمال ہوں۔
ایف بی آر کے مطابق گلگت بلتستان کے لیے درآمد اشیا کی سالانہ استثنیٰ کی حد 4 ارب روپے مقرر ہے، حکومت جی بی ٹیکس فری اشیا کے لیے تاجر کے کوٹے کا تعین کرے گی۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ مقررہ کوٹہ ختم ہونے پر خودکار سسٹم قابلِ اطلاق ٹیکس وصول کرے گا، معاہدے کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں ٹیکس استثنی ایف بی ا ر کے مطابق
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔