انہوں نے اپنی پارلیمانی سرگرمیوں کا آغاز 2010ء سے 2014ء تک اسمبلی کا ممبر بن کے کیا۔ بعد میں وہ پارلیمنٹ کی قانونی کمیٹی کے رکن رہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراقی ممبران پارلیمنٹ نے، پارلیمانی صدارت کے ڈھانچے کی تکمیل کے سلسلے میں باضابطہ ووٹنگ کے ذریعے فرھاد امین اتروشی کو دوسرا ڈپٹی سپیکر منتخب کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، دوسرے ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا اور بالآخر فرھاد امین اتروشی نے نمائندوں کا اعتماد حاصل کیا۔ واضح رہے کہ فرھاد امین اتروشی، عراق میں کردستان ریجن اور ملک کے سیاسی منظرنامے ایک نمایاں شخصیت شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پارلیمانی سرگرمیوں کا آغاز 2010ء سے 2014ء تک اسمبلی کا ممبر بن کے کیا۔ بعد میں وہ پارلیمنٹ کی قانونی کمیٹی کے رکن رہے۔ یہ کمیٹی قوانین کے جائزے، تدوین اور ملک کے قانونی و قانون سازی کے عمل کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں، عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے پیر کے روز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اول کا انتخاب کیا۔ اس وقت ھیبت حمد عباس الحلبوسی سپیکر جب کہ عدنان فیحان اور فرھاد امین اتروشی ان کے معاونین منتخب ہو چکے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ 2003ء کے بعد عراق کے سیاسی نظام میں ایک روایت قائم ہو گئی۔ جس کے مطابق ملک کے تین اہم عہدے، 3 مختلف قومی و مذہبی گروہوں کے درمیان تقسیم کئے جاتے ہیں۔ وزارت عظمیٰ (وزیرِاعظم): یہ منصب شیعہ برادری کو ملتا ہے۔ عام طور پر شیعہ جماعتوں کے درمیان متفقہ رہنماء یا شخصیت کو اس عہدے کے لئے نامزد کیا جاتا ہے۔
پارلیمان کی سربراہی (اسپیکر پارلیمان): یہ منصب اہل سنت کے حصے میں آتا ہے۔ جسے سنی جماعتوں اور پارلیمانی دھڑوں میں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ اسپیکر کے دو معاون ہوتے ہیں۔ ایک شیعہ اور ایک کرد۔
ریاست جمہوریہ (صدرِ مملکت): یہ منصب کردوں کے حصے میں آتا ہے عام طور پر کردستان ڈیموکریٹک پارٹی یا کردستان نیشنل یونین اپنی جانب سے امیدوار نامزد کرتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فرھاد امین اتروشی ڈپٹی سپیکر

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی