ایران کا کسی بھی ناجائز جارحیت کے جواب میں ردعمل شدید ہوگا، مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ایرانی صدر نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا کسی بھی ناجائز جارحیت کے جواب میں ردعمل شدید ہوگا، ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ردعمل بہت سخت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ حملے کی دھمکی کے بعد کسی بھی ممکنہ حملے پر سخت ردعمل کا اعلان کر دیا۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا کسی بھی ناجائز جارحیت کے جواب میں ردعمل شدید ہوگا، مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے خلاف ایران کا ردعمل بہت سخت ہوگا۔ سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے کسی سے اجازت لینے کا محتاج نہیں، کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ایرانی عوام کا ردعمل غیر متوقع ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کے موقع پر ایران کی جانب سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں ایران پر دوبارہ حملے کی حمایت کی تھی۔ امریکی صدر نے فلوریڈا میں نیتن یاہو سے ملاقات سے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پھر جوہری تنصیبات تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایران نے جوہری تعمیرات جاری رکھیں تو ان پر فوری حملوں کی حمایت کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران جوہری پروگرام دوبارہ تعمیر کرے تو ہمیں انہیں گرانا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ ایران جارحیت کے ایران کا کسی بھی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔