data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

 

میرپورخاص( نمائندہ جسارت) عدالتی احکامات پر گرین بیلٹ پر قبضہ مافیا کے خلاف انتظامیہ نے کارروائی شروع کر دی ، اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں آپریشن کا آغاز کردیا قبضہ خوروں کی جانب سے انتظامیہ کو حراسان کرنے کی کوشش۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں عدالتی احکامات پر سیٹلائٹ ٹاؤن گرین بیلٹ پر قبضہ مافیا کی جانب سے روڈ کے دونوں اطراف قبضہ اور قبضہ مافیا کی جانب سے آئے روز لڑائی جھگڑوں کی اطلاع پر ہائی کورٹ میں داخل پٹیشن پر ضلع انتظامیہ نے ڈنڈا اٹھاتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر غلام حسین کانیو اسسٹنٹ ڈائریکٹر انکروچمنٹ کارپوریشن اورنگزیب مغل کا عملے کے ہمراہ آپریشن کا آغاز کردیا۔اس موقع پر قبضہ مافیا کی جانب سے عملے سے تلخ کلامی بھی ہوئی افسران کا کہنا تھا کہ گرین بیلٹ پر عدالتی احکامات پر آج کارروائی کا آغاز کیا ہے قبضہ ختم کرانے کے لیے وارننگ دے دی گئی ہے دو روز بعد قبضہ مافیا پر جرمانے کے ساتھ سامان بھی ضبط کیا جائے گا اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی ۔یاد رہے کہ کچھ روز قبل ایک ہاؤسنگ اسکیم کے مالک کا انکروچمنٹ تنازع پر قتل کے بعد انتظامیہ متحرک نظر آرہی ہے۔ذرائع کے مطابق سیٹلائٹ ٹاؤن گرین بیلٹ پر قبضہ خوروں کی جانب سے خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے جہاں آئے روز قبضہ کے مسئلہ پر لڑائی جھگڑوں اور حراسگی کے واقعات پر علاقہ مکین اور ٹریفک کے مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ شہریوں نے ضلع انتظامیہ اور کارپوریشن افسران کا گرین بیلٹ پر قبضہ ختم کرانے والے عمل کو احسن اقدام قرار دیا۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گرین بیلٹ پر قبضہ پر قبضہ مافیا قبضہ مافیا کی کی جانب سے

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ