لاہور (نوائے وقت رپورٹ) عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں صحت اور سکیورٹی کے شعبوں میں تاریخی پیش رفت جاری ہے، جس کا عملی ثبوت نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا اور نواز شریف کینسر ہاسپٹل لاہور جیسے میگا منصوبے ہیں۔ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا 85 کنال پر قائم ہے، 189 بیڈز پر مشتمل ہے اور 99 فیصد تکمیل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ او پی ڈی فعال ہے جبکہ کیتھ لیب، انجیوگرافی، سی سی یو، آئی سی یو اور کارڈیک سرجیکل آئی سی یو سمیت تمام جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 8.
568 ارب روپے ہے، جن میں سے 8.145 ارب روپے کے اخراجات ہو چکے ہیں، اور افتتاح جنوری میں کیا جائے گا۔ لاہور میں 333 کنال پر 1000 بیڈز کا جدید ترین نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کی لاگت 74.920 ارب روپے ہے۔ منصوبہ مئی 2027 تک مکمل ہوگا جبکہ جنوری 2026 میں ایمرجنسی سروسز اور 17 جنوری 2026 کو او پی ڈی اور کینسر کیئر کلینک فعال کر دیئے جائیں گے۔ 26 اضلاع میں سمارٹ سیف سٹی منصوبہ فعال ہے، پولیس سٹیشن اور پینک بٹنز نصب ہیں، جبکہ ویمن سیفٹی ایپ اور سائن لینگوئج سپورٹ کی بدولت ہزاروں مقامات پر خواتین کو فوری مدد میسر ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے،
2025 میں مجموعی جرائم 2023 کے مقابلے میں 57 فیصد اور 2024 کے مقابلے میں 36 فیصد کم ہوئے، جبکہ ڈکیتی، رابری، اسنیچنگ، وہیکلز تھیفٹ اور برگلری جیسے سنگین جرائم میں بھی واضح کمی سامنے آئی ہے، جو موثر حکمت عملی اور بہتر قانون نافذ کرنے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کی بہتری اور علاج تک عوام کی رسائی کو آسان بنانے کے لیے متعدد تاریخی اقدامات کیے ہیں جن میں کلینک آن ویلز کے تحت 911 موبائل یونٹس کی تعیناتی شامل ہے جن سے اب تک 1 کروڑ 63 لاکھ سے زائد مریض مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ فیلڈ ہسپتالوں میں 22 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا اور مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے 2,503 مراکز آؤٹ سورس ہونے سے 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد شہریوں کو معیاری سہولیات فراہم کی گئیں۔مریم نواز ہسپتالوں میں 59 رورل ہیلتھ سینٹرز کے آؤٹ سورس ہونے کے بعد اکتوبر 2025 میں 16 ہزار سے زائد سرجریز ممکن ہوئیں۔ جبکہ بنیادی صحت کے نظام کے تحت 1,087 بنیادی مراکز صحت اور 173 رورل ہیلتھ سینٹرز کو مکمل طور پر اپ گریڈ کیا جا چکا ہے اور 31 دسمبر 2025 تک مزید 434 مریم نواز ہیلتھ کلینکس اور 821 مریم نواز ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن مکمل کی جائے گی، جس کے بعد دسمبر 2026 تک صوبے کے تمام بنیادی صحت مراکز کی بحالی کا ہدف پورا کر لیا جائے گا۔ مریضوں کو علاج کی تسلسل کے ساتھ فراہمی یقینی بنانے کے لیے ادویات گھروں تک پہنچانے کے پروگرام کے تحت 17,747 ادویاتی پیکجز گھروں تک پہنچائے گئے جن میں 8,827 ہیپاٹائٹس اور 8,920 ٹی بی پیکجز شامل ہیں، جبکہ انسولین کی ہوم ڈیلیوری کے ذریعے ٹائپ ون ذیابیطس کے 2,224 مریضوں کو انسولین فراہم کی گئی اور 2,023 کو دوسری خوراک بھی دی جا چکی ہے۔ درست تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹس کی آؤٹ سورسنگ اور بچوں کی غذائیت کے مراکز 1,000 سے بڑھا کر 2,500 سے زائد کیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل تبدیلی اور شفافیت کے لیے بہتر ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم دسمبر 2025 تک لانچ کیا جا رہا ہے جبکہ کیتھ لیبز میانوالی، جہلم، جھنگ اور اٹک میں 15 جنوری 2026 تک فعال کر دی جائیں گی اور اپریل 2025 تک مزید 8 لیبز قائم کی جائیں گی، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صوبے میں سمارٹ سیف سٹی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پنجاب کے 26 اضلاع میں اسمارٹ سیف سٹی منصوبہ مکمل طور پر فعال ہے جبکہ اگلے سال تک اس کی توسیع مزید 141 تحصیلوں تک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ لاہور کے 41 خواتین و گرلز کالجز اور پنجاب بھر کے 342 مقامات پر پینک بٹنز نصب کیے گئے ہیں، جبکہ ویمن سیفٹی ایپ کے ذریعے خواتین چیٹ یا ویڈیو کال کے ذریعے براہِ راست مدد حاصل کر سکتی ہیں۔ قوتِ سماعت یا گویائی سے محروم خواتین بھی سیف سٹی پبلک سیفٹی ایپ کے ذریعے سائن لینگوئج ایکسپرٹ کمیونیکیشن آفیسرز سے رابطہ کر کے فوری مدد حاصل کر سکتی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں جرائم کی مجموعی صورتحال میں 2023 اور 2024 کے مقابلے میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔ مجموعی جرائم 2025 میں 2023 کے مقابلے میں 57÷ اور 2024 کے مقابلے میں 36÷ کم ہوئے، جس سے صوبے میں سیکیورٹی اقدامات کی مؤثریت واضح ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ:
کے مقابلے میں
انسٹی ٹیوٹ
مریم نواز
نواز شریف
کے ذریعے
سیف سٹی
نے کہا
کیا جا
کے لیے
کہا کہ
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء)
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی
فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔