ٹنڈوجام ،سیوریج کا مسئلہ علاقے گندے پانی میں ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-2-17
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت) ٹنڈوجام 2025ء میں بھی سیوریج کا مسئلہ حل نہ ہو سکا سال کے آخری دنوں میں بھی سیوریج لائن پھٹنے سے عبدالستار ایدھی چوک گندے پانی میں ڈوب گیااور نہ پیپلزپارٹی میٹھے پانی کا مسلہ دس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجودنہ حل ہو سکا عوام مضر صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور تفصیلات کے مطابق 2025 میں بھی ٹنڈوجام کے دوبڑے اہم مسائل حل نہیں ہو سکے ٹنڈوجام کے اکثر علاقے سیوریج کا نظام درست نہ ہونے اور سیوریج لائن چالیس پرانی وجہ سے گندے پانی میں ڈوبا رہتا ہے شہر کامرکز چوک عبدالستار ایدھی چوک کے دکان داروں کو سال کے آخری دنوں میں بھی گندے پانی کی سیوریج پھٹ جانے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور گندہ پانی بلال مسجد تک کھڑا نظر آیا اس مسلے کو حل کرنے کا پیپلزپارٹی نے وعدہ کیاتھالیکن حل ابھی تک نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں سیوریج کا گندہ پانی کھڑا رہتا ہے اور عوام کو شدید مسائل سے گزرنا پڑتا ہے اسی طرح ٹنڈوجام کی عوام سے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا پیپلزپارٹی نے میٹھا پانی مہیا کرنے کا وعدہ جو ابھی تک پورا ہو سکا جب کہ اس کی لائن ڈالنے کے لیے شہرکا مرکزی راستہ تین سال سے کھودا پڑا ہے جس کی وجہ سے عوام کو اس پر سفر کرتے ہوئے شدید مسائل سے گزرنا پڑتا ہے اور میٹھے پانی کی جگہ عوام کو مضر صحت پانی استعمال کرنا پڑتا ہے جو بہت سے بیماریوں کا سبب بن رہا ہے یہاں کے بض علاقوں میں پانی بالکل پیلا زر والا پانی ہو گیا ہے ڈاکٹروں کے مطابق اس کے استعمال سے جلدی امراض بھی ہو سکتے ہیں اس سال بلدیاتی اداروں نے بہت اچھا کام کیا اور ٹنڈوجام کی گلیاں اور محلے میں پیور بلاک لگا کر راستے پختہ کیے گئے جب کہ رشید کالونی میں بجلی کے پول بھی لگائے گئے اس سال تین چیئرمین راو اکرم دانش صابر اور حیدر شاہ اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے علاقوں میں ہر وقت عوام کے درمیان نظر آئے کونسلروں میں راو طاہر اسامہ مقبول کونسلر رہے جو ہر وقت اپنی عوام کے ساتھ کھڑے نظر آئے دوسال کے بعد اس سال کے آخر میں سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کو وائس چانسلر مل گیا اور ڈاکٹر الطاف علی سیال کو آخرکار وائس چانسلر کے لیے حکومت سندھ نے منتخب کرلیا اور انھوں نے زرعی یونیورسٹی میں ایک فیکلٹی کا اضافہ کیا اس طرح اب زرعی یونیورسٹی کی چھ فیکلٹی ہو گئی ہیں مجموعی طور پر اس سال میں ٹنڈوجام میں کوئی بڑا پروجیکٹ حکومت کی جانب سے مکمل نہیں کیا جا سکا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیوریج کا گندے پانی میں بھی اس سال سال کے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔