حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کیلئے پیشرفت، فریقین نے رابطہ قائم کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے سلسلے میں پیشرفت سامنے آئی ہے اور اس مقصد کیلیے فریقین نے رابطہ قائم کرلیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے رہنمائوں کے درمیان ان ڈائریکٹ رابطہ ہوا ہے اور اس سلسلے میں ایک مشترکہ دوست کے ذریعے وفاقی حکومت کا پیغام عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے نامزد اپوزیشن لیڈر اور تحفظ آئین پاکستان تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو پہنچا دیا گیا، محمود خان اچکزئی کے نام پیغام میں حکومت نے مذاکرات پر اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بارے میں بتایا اور مشاورت مکمل ہوتے ہی انہیں اپوزیشن سے باقاعدہ مذاکرات کے لیے رابطہ کیے جانے کے بارے میں آگاہ کیا۔حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے نوٹی فکیشن کے لیے بھی محمود خان اچکزئی سے رابطہ کیا ہے، ممکنہ طور پر آج سپیکر کو مطلوبہ دستاویزات فراہم کردی جائیں گی، جس کے بعد محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔