بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ: مودی حکومت کے لیے بڑا معاشی چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر) بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں مسلسل تناؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، جس کا اثر نہ صرف دونوں ممالک کی سیاسی حکمت عملیوں پر پڑا ہے، بلکہ بھارت کی معیشت اور ارب پتی کاروباری شخصیات پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور اقتدار میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے، اور یہ سرد مہری بھارت کے لیے سنگین معاشی چیلنجز کا باعث بن رہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت اور امریکہ کے خراب تعلقات کی ایک اہم وجہ مودی حکومت کی ہندوتوا پر مبنی پالیسی اور خارجہ حکمتِ عملی ہے، جس نے بھارت کے تجارتی تعلقات پر منفی اثر ڈالا ہے۔ بھارت کے بڑے ارب پتی، جو امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر لابنگ فرموں پر خرچ کر چکے ہیں، وہ بھی امریکی حکام کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کے معروف کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات کا برقرار رہنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ میں بھارت کے اثرورسوخ کی لابنگ اور کاروباری تعلقات امریکی قانونی ترجیحات پر اثرانداز نہیں ہو سکے۔ بھارت کے ارب پتی، جو کہ امریکہ کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے اپنے روابط استعمال کرتے ہیں، اب امریکی تجارتی فیصلوں سے بچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری کے دوران پاکستان سے اپنے تعلقات کو مضبوط کیا، جو بھارت کے لیے ایک اور چیلنج بن گیا ہے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان رابطے کم ہونے کے باعث بھارت کے تجارتی مفادات اور اسٹریٹجک تعلقات متاثر ہوئے ہیں، اور یہ صورتحال بھارت کے لیے مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق، بھارت کو اب امریکہ سے اختلافات کی صورت میں سخت معاشی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی حکومت نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس سے بھارت کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ، روسی تیل پر ناراضی اور بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کے حوالے سے امریکی فیصلے بھارت کے لیے سنگین چیلنجز کا باعث بنے ہیں۔
امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اہم اتحادی سمجھتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں بھارت کے رویے نے اس شکوک کو مزید گہرا کیا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں تصادم کے بڑھتے ہوئے خدشات نے امریکہ کے بھارت کے حوالے سے تحفظات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں یہ کشیدگی نہ صرف بھارتی ارب پتیوں بلکہ بھارت کی مجموعی معیشت پر بھی منفی اثرات ڈال رہی ہے۔ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور امریکی تجارتی فیصلوں میں تضادات نے بھارت کے لیے مزید معاشی اور سیاسی مشکلات پیدا کر دی ہیں، اور یہ صورتحال بھارت کی عالمی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت اور امریکہ کے تعلقات بھارت کے لیے تعلقات میں نے بھارت بھارت کی کے ساتھ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔