گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کی آج آخری تاریخ، کل سے کارروائیوں کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ویب ڈیسک :اسلام آباد میں گاڑیوں کے داخلے کیلئے ایم ٹیگ لگانے کی آج آخری تاریخ ہے جس کے بعد ایم ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، شہریوں کی سہولت کے پیش نظر ایم ٹیگ سینٹرز پر عملے اور سٹاک میں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ گاڑیوں کو بروقت ایم ٹیگ فراہم کیا جا سکے، 14 نومبر سے اب تک ایم ٹیگ لگوانے والی گاڑیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن نے کہا ہے کہ یکم جنوری سے شہر کے مختلف انٹری پوائنٹس پر بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کو روکنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، اس مقصد کے لیے بغیر ایم ٹیگ گاڑیوں کی نشاندہی کرنے والے ٹیگ ریڈرز بھی یکم جنوری سے مکمل طور پر فعال کر دیئے جائیں گے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے بروقت اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوا لیں۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔