قومی معیشت میں نمایاں بہتری، پہلی سہ ماہی میں 3.7 فیصد شرحِ نمو منظور
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت نے رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے لیے قومی معیشت کی 3.7 فیصد شرحِ نمو کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جسے معاشی محاذ پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اس شرحِ نمو کی منظوری نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت سیکریٹری پلاننگ اویس منظور سمرانے کی۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق معیشت کے تقریباً تمام بڑے شعبوں میں نمو ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد سامنے آنے والی سرکاری رپورٹس اور خدشات سے خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق جولائی سے ستمبر تک پہلی سہ ماہی میں مجموعی قدرِ افزائش 3.
زرعی شعبے میں اگرچہ سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر نقصانات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم بعض فصلوں کی پیداوار میں غیر متوقع بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے مجموعی شرحِ نمو کو سہارا دیا۔
تفصیلات میں مزید بتایا گیا ہے کہ چاول کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، حالانکہ کاشت کے رقبے میں 3.6 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ اس کے باوجود چاول کی پیداوار 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً ایک کروڑ ٹن تک پہنچ گئی۔
یہ اعداد و شمار وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے سیلاب کے بعد لگائے گئے تخمینوں کے برعکس ہیں، جن کے مطابق چاول کی پیداوار 83 سے 89 لاکھ ٹن کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا اور یہی تخمینے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو بھی فراہم کیے گئے تھے۔
پلاننگ کمیشن کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 744 ارب روپے کے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات ہوئے، جن کا سب سے بڑا بوجھ زرعی شعبے نے برداشت کیا۔ اس کے باوجود پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار میں زراعت کی مجموعی کارکردگی حکومتی اندازوں سے بہتر دکھائی دیتی ہے۔
اجلاس میں نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی نے پہلی سہ ماہی کے لیے زراعت میں 2.9 فیصد، صنعت میں 9.4 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 2.4 فیصد شرحِ نمو کی منظوری دی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں ایک فیصد سے کم کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی بتائی گئی ہے۔ اس کے برعکس مکئی، چاول اور گنے کی پیداوار میں اضافہ سامنے آیا۔ دیگر فصلوں کی پیداوار میں 6.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں 6.3 فیصد اضافہ ظاہر کیا گیا، جو دیہی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں خدمات کے شعبے میں مجموعی طور پر 2.4 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔ ہول سیل اور ریٹیل تجارت میں 3.1 فیصد اضافہ ہوا، تاہم انفارمیشن اور کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 28.7 فیصد نمایاں کمی ظاہر کی گئی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق موبائل کمپنیوں کی پیداوار میں کمی اس گراوٹ کی بڑی وجہ بنی۔ دوسری جانب فنانس اور انشورنس میں 10.4 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی میں 8.1 فیصد، جبکہ تعلیمی خدمات میں 5.24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی پیداوار میں ریکارڈ کی گئی پہلی سہ ماہی کے شعبے میں سیلاب کے کے مطابق کیا گیا
پڑھیں:
کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
فائل فوٹوچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا۔
کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
پشاور میں ایک خصوصی تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے جنگ اور جیو گروپ کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کو خصوصی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ دیا۔
جنگ اور جیو نے 30 اپریل 2025ء کو کوہستان میں سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے کی خرد برد کی خبر بریک کی تھی، کوہستان اسکینڈل ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل تھا۔