طالبان کی علم دشمنی مزید بے نقاب، سینکڑوں کتابیں اور نصاب پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
افغانستان میں طالبان حکومت کی تعلیمی اور فکری پالیسیوں پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مختلف تحقیقی اداروں اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے یونیورسٹیوں کی نصابی کتب سمیت سینکڑوں عوامی کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے ملک میں تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی سطح کی نصابی کتب اور بڑی تعداد میں عمومی مطالعے کی کتابوں کو ممنوع قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق، جمہوریت، آئینی قانون، انتخابی نظام، سوشیالوجی اور فلسفۂ اخلاق جیسے مضامین کو یا تو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے یا شدید حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔
اے اے این کے مطابق خواتین مصنفین اور ایرانی لکھاریوں کی کتب بھی پابندی کی زد میں آئی ہیں۔ افغان اخبار ہشت صبح نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان نے اہم تاریخی اور سیاسی موضوعات پر مبنی کتب کو بھی ممنوع قرار دیا ہے، جس سے علمی تحقیق اور آزادانہ مطالعہ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیںطالبان دور میں سیکیورٹی بحران شدید، افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے غیر محفوظ ملک قرار
طالبان دور میں صحافت کا گلا گھونٹ دیا گیا، قتل، تشدد اور گرفتاریاں بے نقاب
تحقیقی اداروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معلومات تک عوامی رسائی محدود کرنا، تاریخی حقائق کو کنٹرول کرنا اور فکری آزادی پر سخت نگرانی قائم کرنا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی پالیسیاں افغانستان کے علمی ماحول کو طویل المدتی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں صورتحال خاص طور پر لڑکیوں کے لیے تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یونیسف کے مطابق 2025 میں افغانستان میں 21 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچے اسکول سے باہر رہے، جن میں تقریباً 60 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 22 لاکھ نوجوان خواتین ثانوی تعلیم سے محروم رہیں۔
ماہرین کے مطابق طالبان کی تعلیمی پابندیاں نہ صرف افغانستان کی سماجی و فکری ترقی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ نوجوانوں میں انتہاپسندی کے رجحانات کو بھی بڑھا سکتی ہیں، جس کے اثرات ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔