2026 کیسا رہے گا؟ نصف سے زائد پاکستانیوں کو بہتری اور معاشی استحکام کی امید
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان میں نصف سے زائد افراد کو یقین ہے کہ نیا سال 2026 بہتری کا سال ہوگا اور ملک کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔
یہ انکشاف گیلپ پاکستان کے ایک سروے میں سامنے آیا ہے، جس میں ملک بھر سے 1,000 افراد نے حصہ لیا۔ یہ سروے دنیا کے 60 ممالک میں بھی کیا گیا، جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔
جب شرکا سے سوال کیا گیا، “کیا نیا سال 2026، 2025 سے بہتر ہوگا؟” تو 51 فیصد پاکستانیوں نے بہتری کی توقع ظاہر کی، جبکہ 20 فیصد نے کہا کہ صورتحال بدتر ہوگی، 10 فیصد نے کہا کہ حالات ویسے ہی رہیں گے اور 19 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے 2026 معیشت کے لیے نہایت کٹھن سال، پیٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام کو برداشت کرنا ہوگا، مزمل اسلم
گیلپ پاکستان کے مطابق، 2026 کے لیے پاکستان میں بہتری کی توقع رکھنے والے افراد کی شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر صرف 37 فیصد افراد نے نئے سال کے لیے خوش آئند رجحان ظاہر کیا، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 51 فیصد رہی۔
معاشی حالات کے حوالے سے پوچھنے پر، 53 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ معیشت مزید بہتر ہوگی، 27 فیصد نے مشکلات کی تشویش ظاہر کی، 10 فیصد نے کہا کہ کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور دیگر 10 فیصد نے جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیے پاکستانی معیشت مسلسل بہتری کی جانب گامزن، دیوالیہ ہونے کے خدشات دم توڑ گئے
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 52 فیصد پاکستانی عالمی امن کے لیے پر امید ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا 2026 میں 2025 کے مقابلے میں زیادہ پرامن ہوگی۔ اس کے برعکس، 21 فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا میں تنازعات بڑھیں گے، 19 فیصد نے کہا کہ کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، اور 8 فیصد نے جواب نہیں دیا۔
سروے کے مطابق، پاکستان میں پرامن دنیا کے خواب دیکھنے والوں کی شرح ہندوستان اور عالمی اوسط سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی معیشت سروے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی معیشت سروے فیصد نے کہا کہ پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔