چینی ایئرلائن چائنہ سدرن کا لاہور کیلئے روزانہ پروازیں آپریٹ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سعید احمد:چینی ایئرلائن چائنہ سدرن نے لاہور کیلئے پروازوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے روزانہ پرواز آپریٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایئرلائن کے مطابق گوانگ زو سے لاہور کیلئے ہفتہ وار 7 پروازیں چلائی جائیں گی، جو یکم جنوری 2026 سے باقاعدہ طور پر شروع ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق چائنہ سدرن ایئرلائن روزانہ پروازوں کے لیے ایئربس اے330 ساختہ طیارے استعمال کرے گی۔ اس سے قبل ایئرلائن لاہور روٹ پر ہفتہ وار 5 پروازیں آپریٹ کر رہی تھی، جن میں بوئنگ 787 طیارہ استعمال کیا جاتا تھا۔
ڈالر کی قیمت میں معمولی کمی
ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ پروازوں کی تعداد میں اضافے سے پاکستان اور چین کے درمیان فضائی روابط مزید مضبوط ہوں گے، جبکہ کاروباری طبقے، سیاحوں اور طلبہ کو بھی بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔ ماہرین کے مطابق لاہور کیلئے روزانہ پروازوں کا آغاز دونوں ممالک کے تجارتی اور سفارتی تعلقات میں مزید بہتری کا باعث بنے گا۔
چائنہ سدرن کی جانب سے پروازوں میں اضافے کو لاہور ایئرپورٹ کی سرگرمیوں میں اضافے اور بین الاقوامی مسافروں کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیئرز کی عزت ۔۔۔ کامیابی کی ضمانت۔۔۔ نرگس اور ریما کا کیا موازنہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور کیلئے چائنہ سدرن
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔