نادرا کا شہریوں کیلیے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: بزرگ شہریوں یا طبی مسائل کے باعث فنگرپرنٹس کے ذریعے شناختی تصدیق میں دشواری کا مسئلہ اب ختم ہو گیا ہے کیونکہ نادرا نے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔
نادرا کے مطابق قومی شناختی کارڈ قوانین میں حالیہ ترمیم کے ذریعے بائیومیٹرک کی تعریف کو وسیع کیا گیا ہے اور اب شہری پاک آئی موبائل ایپ پر اپنی چہرے کی شناخت سے بائیومیٹرک تصدیق کروا سکتے ہیں، 20 جنوری 2026 سے ملک بھر میں نادرا مراکز میں بھی چہرے کی شناخت کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
شہری ضرورت پڑنے پر معمولی فیس کے عوض یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے، اگر کسی شہری کے فنگر پرنٹس کی تصدیق ممکن نہ ہو تو وہ قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جائیں گے، چہرے کی شناخت مکمل ہونے کے بعد نادرا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جس میں شہری کی تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابل استعمال ہوگا۔
نادرا کا کہنا ہے کہ یہ سہولت شہریوں کے لیے شناختی تصدیق کے عمل کو آسان اور محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بائیومیٹرک تصدیق چہرے کی شناخت
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک