’’اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں‘‘جسٹس جمال مندوخیل کے کیس کی سماعت میں ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
جسٹس جمال مندوخیل نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ میں نیب کے ملزم عامر محمود کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے ملزم کی دستخطوں کی جانچ کے لیے فرانزک کروانے کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 15 روز میں فرانزک کرواکے رپورٹ دیں ۔
دوران سماعت ججز اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پراسیکیوٹر ناصر مغل نے کہا کہ دستخطوں کی فرانزک کے لیے عدالت سے اجازت لینا ہوگی ، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم فرانزک کا حکم دے رہے ہیں ۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ اب ہمیں عدالت بھی نہیں سمجھتے ؟، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ سر آپ تو اعلیٰ عدلیہ ہیں۔ اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اب اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں ۔
جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ نیب آج کل مکمل خاموش ہے۔ آج کل نیب کے کیسز بھی نہیں لگ رہے ، جس پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کیا پتا کچھ عرصے میں نیب خاموش نہ رہے ۔
مزید پڑھیںسپریم کورٹ: مقدمات ٹرانسفر کرنے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حکم معطل
دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس کے مرکزی ملزم نے الزام تسلیم کرلیا ہے ۔ میرا موکل مرکزی ملزم کا رشتہ دار ہونے کی بنا پر گرفتار کیا گیا ۔
نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم نے شہریوں سے 9 سے زائد ایگریمنٹس کیے ہیں۔ مجموعی کیس ساڑھے 6 ارب جب کہ 87 ملین کا ملزم پر الزام ہے ۔ ملزمان نے 1400 سے زائد شہریوں سے رقم وصول کی ۔ ملزم نے معاہدوں پر سے اپنے دستخط بھی ہٹا دیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملزم کے دستخطوں کی جانچ کرنا ہوگی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ نیب مقدمات میں تفتیش جلد مکمل کیوں نہیں کرتا ؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ملزم نے خود اعترافی بیان دیا ہے ۔
بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل نے پراسیکیوٹر نے نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔